منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس، ڈاکٹر طاہر القادری کے ہمسائے میاں ممتاز کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 18  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے سلسلے میں گزشتہ روز سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر محمدطاہر القادری کے ہمسایے میاں ممتاز نے اپنا بیان قلمبند کروادیا جس کے بعد کیس کی مزید سماعت 22اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہوئی ۔ڈاکٹر طاہر القادری کے ہمسائے میاں ممتاز نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ عوامی تحریک کی خواتین آمنہ لطیف، عائشہ کیانی ،تنزیلہ امجد، رمشا آمنہ بتول اور شازیہ مرتضیٰ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے مرکزی گیٹ پر ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کھڑی تھیں۔ڈی آئی جی رانا عبدالجبار نے بلند آواز میں کہا کہ میں تین تک گنتی گنوں گا اگر آپ دروازے سے نہ ہٹیں تو گولیوں سے بھون دوں گا اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ڈی آئی جی کی تین تک گنتی مکمل ہونے کے بعد گن مین عابد حسین نے فائرنگ شروع کر دی جس کاایک فائر تنزیلہ امجد کے جبڑے پر لگا اور وہ موقع پر شہید ہو گئیں پھر اس کے بعد ایس پی طارق عزیز نے ایلیٹ فورس کے نثار کو فائرنگ کا حکم دیا جس کی فائرنگ سے شازیہ مرتضیٰ شدید زخمی ہو کر گر پڑیں اس کی گردن پر گولیاں لگیں۔میاں ممتاز نے بتایا کہ میں فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد گھر کی طرف لوٹا تو وہاں بابر کانسٹیبل دونوں ہاتھوں میں ریوالر تھامے پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کررہا تھا اور خوف و ہراس پھیلارہا تھا۔ میاں ممتاز نے اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ میرا گھر ڈاکٹر طاہر القادری کی ماڈل ٹاؤن والی رہائش گاہ کے چند قدم کے فاصلے پر ہے ۔ رات ایک بجے فائرنگ،لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کا شور سن کر گھر سے باہر نکلا تو پولیس کی بھاری نفری بلڈوزرز اور کرینوں کے ساتھ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کی طرف بڑھ رہی تھی اور پورے علاقے کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔کارکن اس محاصرے کے خلاف پرامن احتجاج کررہے تھے یہ ساری بربریت 16 جون 2014 ء کی رات ایک بجے سے شروع ہو کر دن 12 بجے تک جاری رہی۔مزید سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ۔انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج چودھری محمد اعظم نے استغاثہ کے وکلاء سے کہا کہ آئندہ سماعت پر پولیس کی ایف آئی آر نمبری 510 کے تحت پیش ہونے والے چالان پر بھی بحث ہو گی آیا استغاثہ کے دائر ہونے کے بعد اس کی کیا قانونی حیثیت ہے۔ عوامی تحریک کی طرف سے سینئر وکیل ،رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، غضنفر علی ایڈووکیٹ، چودھری امتیاز ایڈووکیٹ ،جواد حامد و دیگر وکلاء موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…