منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

شریف خا ندان بر ی طرح پھنس چکا ہے عمران خان نے لند ن روانگی سے قبل کیا کہا ؟

datetime 14  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی حکمرانوں کی کرپشن پر سوال اٹھاتا ہے تو انھیں جمہوریت یاد آ جاتی ہے۔
بنی گالہ سے لاہور ایئرپورٹ کے لئے روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کے پاس کسی کے کرپشن کے ثبوت ہیں تو انھیں عوام کے سامنے لانے چاہیئیں کیونکہ وہ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے تنخواہ لیتے ہیں، وزیر داخلہ کے بیان سے ثابت ہو گیا کہ اب تک تو یہ لوگ ایک دوسرے کو بلیک میل کرتے آئے ہیں لیکن اب پھنس گئے ہیں کیونکہ پاناما لیکس کی دستاویزات کو کوئی مسترد نہیں کر سکتا کیونکہ یہ کسی اپوزیشن جماعت نے نہیں بلکہ ایک انٹرنیشنل فرم نے شائع کی ہیں۔ پاناما لیکس کا معاملہ کے معاملے پر 3 وزیراعظم مستعفی ہو چکے اور نریندر مودی نے تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر شریف خاندان پر 4 قسم کے الزامات ہیں جن میں منی لانڈرنگ، ٹیکس چھپانا، کرپشن، الیکشن کمیشن کو جھوٹ بولا شامل ہے اور ان میں سے ایک بھی ثابت ہو جائے تو اس کی سزا جیل ہے، پاناما لیکس کے معاملے پر آئس لینڈ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیا اور برطانوی وزیراعظم کو ٹیکس کی تمام تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کرنا پڑیں لیکن ہمارے یہاں جب بھی حکمرانوں کی کرپشن کے خلاف سوال اٹھایا جاتا ہے تو انھیں جمہوریت یاد آجاتی ہے۔
تحریک انصاف کے چیرمین کا کہنا تھا کہ ہم نے پاناما لیکس کے معاملے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی کے علاوہ کوئی کمیشن منظور نہیں ہے، اگر کمیشن نہیں بنا تو پہلے چھوٹے چھوٹے احتجاج ہوں گے اور پھر سب کو لے کر لاہور کی جانب مارچ کریں گے، اللہ نے پاکستانی قوم کو سنہری موقع دیا ہے کہ وہ کرپٹ حکمرانوں احتساب کریں، اللہ نے کھیلوں کے میدانوں میں میری تیاری کروا رکھی ہے اور ہم مل کر اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ لندن میں پارٹی فنڈ ریزنگ کے علاوہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے 3 انٹرنیشنل فرانزک کمپنیوں سے بھی ملوں گا جسے ہم منتخب کریں گے اور حکومت ان سے معاملے کی تحقیقات کروائے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…