بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

چائنیز ، دیگر غیر ملکی ماہرین کی سکیورٹی کیلئے قائم فورس کے لئے بھرتی

datetime 4  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک)صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبے پر کام کرنے والے چائنیز اور دیگر غیر ملکی ماہرین کی سکیورٹی کے لئے قائم کیے گئے سپیشلائزڈ پروٹیکشن یونٹ کے لئے 5ہزار میں سے 3352 بھرتی ہونے والے اہلکاروں کو 6مہینے کی تربیت مکمل ہونے کے بعد پراجیکٹس پر تعینات کر دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، مشتاق احمد سکھیرا کی سربراہی میں سنٹرل پولیس آفس لاہورمیں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی ویلفےئر اینڈ فنانس، سہیل خان، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، کیپٹن (ر) عارف نواز، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب، ڈاکٹر عارف مشتاق، سی سی پی او لاہور، کیپٹن (ر) امین وینس، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ I۔، اظہر حمید کھوکھر، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ II۔، سلمان چوہدری، ڈی آئی جی ، ہیڈ کوارٹرز، بی اے ناصر، ڈی آئی جی ویلفےئر، جان محمد، ڈی آئی جی آر اینڈ ڈی، احمد اسحاق جہانگیر، ڈی آئی جی ایس پی یو، آغا یوسف، اے آئی جی ڈویلپمنٹ ، کامران خان، اے آئی جی لاجسٹکس، ہمایوں بشیر تارڑ اور اے آئی جی لیگل ، کامران عادل کے علاوہ سی پی او کے دیگر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ایس پی یو آغا محمد یوسف نے آئی جی پنجاب کو ایس پی یو کے تنظیمی ڈھانچے ، اس کی ورکنگ اور دیگر ایس او پیزکے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ باقی 1648اہلکاروں کی بھرتی کے لئے جلد اشتہار اخبارات میں جاری کر دیا جائے گا۔ بھرتی کئے گئے 3352اہلکاروں کی گزشتہ ماہ 22مارچ سے سرگودھا ، ملتان اور راولپنڈی کے پولیس ٹریننگ سنٹروں میں شروع کر دی گئی ہے۔آئی جی پنجاب نے ان اہلکاروں کی تربیت کے بارے میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تربیت ایلیٹ طرز کی کروائی جائے۔ اس کے علاوہ سپیشلائزڈ پروٹیکشن یونٹ کے لئے خریدی جانے والی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور دیگر آلات کے بارے میں بھی جائزہ لیا گیا۔ میٹنگ میں صوبے بھر میں چائنیز کی سکیورٹی کے لئے پنجاب کو تین زونز، سنٹرل، ساؤتھ اور نارتھ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اجلاس میں افسروں کی کارکردگی رپورٹس اور اس کی مانیٹرنگ کا جائزہ لیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ آئندہ ڈی پی اوز، ایس ڈی پی اوز، ڈی ایس پیز لیول کے افسروں اور اس کے علاوہ ضلعوں میں تعینات ایس ایچ اوز کی کارکردگی کی رپورٹ ہر تین ماہ بعد انہیں پیش کی جائے گی اور ان رپورٹس کی روشنی میں افسرو ں کی سزا یا جزاء کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کارکردگی رپورٹس کمپیوٹرائزڈ کر دی جائیں گی اور جس کے لئے ضروری سافٹ وےئر فیلڈ افسران کو مہیا کر دیا جائے گا۔ اجلاس میں مختلف شعبوں سے سرنڈر/خالی ہونے والی پوسٹوں کے بارے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر یونٹ کی ضرورت اور حصے کے حساب سے ان خالی پوسٹوں پر تعیناتیاں کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…