منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اماراتی حکومت نے شہریوں کو آخری وارننگ دے دی

datetime 1  مئی‬‮  2024 |

ابوظہبی(این این آئی)متحدہ عرب امارات میں ہونے والی حالیہ تباہ کن بارشوں نے جہاں نظام زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں افواہوں کے باعث انتظامیہ شدید پریشان دکھائی دے رہی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اماراتی انتظامیہ کی جانب سے اب باقاعدہ طور پر شہریوں کو تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ وہ کسی ایسی خبر کو پھیلانے میں اپنا حصہ نہ ڈالیں جو کہ ملک میں افراتفری کا باعث بنے۔انتظامیہ کی جانب سے خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر جھوٹی اور بے بنیاد خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔مقامی سیکیورٹی ادارے ام القوواین پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ متوقع موسمی صورتحال کے پیش نظر اماراتی سوشل میڈیا پر افواہوں اور جھوٹی خبروں کا ایک طوفان برپا ہے۔

ادارے کی جانب سے مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کی خبریں پھیلانے کا مقصد عوام میں افرا تفری پھیلانا ہے یہ عمل ملک کی سلامتی اور سیکیورٹی کے لیے خطرے کا باعث بن رہا ہے۔ادارے کی جانب سے مزید کہنا تھا کہ اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری ایکشن لیا جائے گا اور کمیونٹی سیکیورٹی کو ادارے نے ریڈ لائن قرار دے دیا ہے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ بغیر تصدیق کے موسم صورتحال سے متعلق کسی بھی قسم کی پوسٹ یہ معلومات کو شیئر نہ کی جائیں۔واضح رہے اماراتی قانون کے مطابق افواہ اور جھوٹی خبر پھیلانے پر 1 لاکھ سے 2 لاکھ رہم تک جرمانہ عائد ہوتا ہے جبکہ 2 سال قید کی سزا بھی شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…