بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

معاہدے کے تحت 50پاکستانیوں سمیت 131مہاجرین یونان بدر

datetime 4  اپریل‬‮  2016 |

ایتھنز((نیوز ڈیسک) یورپی یونین اور ترکی کے مابین گزشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے کے تحت یونان سے غیر قانونی تارکین وطن کی ترکی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے،اورپہلے مرحلے میں پچاس پاکستانیوں سمیت تقریباً131مہاجرین کو یونان بدرکردیاگیا ہے جبکہ یونانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ منگل اوربدھ کو مزید دوسوپچاس پاکستانی،سری لنکن،افریقی اوربنگلہ دیشی تارکین وطن کو ترکی بھیجاجائیگا،میڈیارپورٹس کے مطابق یونانی جزیرے لیسبوس سے ترک بحری جہاز لیسووس اور نیزلی جیل 131 تارکین وطن کو لے کر ترکی پہنچ گئے ، ترکی پہنچنے والے مہاجرین میں 50پاکستانی اور81دیگر شہری شامل ہیں،ترک حکام کے بقول ان پناہ گزینوں کو دیکیلی میں عارضی قیام کے بعد چشمے نامی ایک اور ساحلی شہر منتقل کر دیا جائے گا اور وہاں سے انہیں مزید آگے روانہ کیا جائے گا۔یونان میں یورپی سرحدوں کی محافظ ایجنسی فرنٹیکس ملک بدریوں کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔ لیسبوس میں موجود ایجنسی کی ترجمان ایوا مونکیور نے رپورٹرز کو بتایا کہ مہاجرین کے پہلے گروپ کی ترکی واپسی کا عمل کافی منظم تھا اور اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کے بقول ترک اہلکار بھی اس عمل کی نگرانی میں مصروف ہیں۔خیوس نامی ایک یونانی جزیرے سے بھی ایک کشتی تارکین وطن کو ترکی پہنچانے کا کام کر رہی ہے البتہ تاحال یہ واضح نہیں کہ اس مقام سے کتنے مہاجرین کی ملک بدری عمل میں آ رہی ہے۔یونانی اہلکار نے ابھی تک اس بارے میں زیادہ اطلاعات فراہم نہیں کی ہیں کہ کتنے مہاجرین کو بحیرہ ایجیئن کے راستے واپس ترکی بھیجا جائے گا۔ تاہم سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق پیر سے لے کر بدھ تک روزانہ تقریبا ڈھائی سو پاکستانی، سری لنکن، افریقی اور بنگلہ دیشی تارکین وطن کو ترکی بھیجا جا ئے ۔ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے والی یونانی ایجنسی کے ترجمان نے واضح طور پر آج اعلان کیا ہے کہ یہ پہلے دن صرف ان تارکین وطن کو ملک بدر کیا گیا ہے، جنہوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع ہی نہیں کرائیں۔دریں اثنا معاہدے کے تحت ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کی یورپ منتقلی کا عمل بھی پیر ہی سے شروع ہوگیا ہے ،پہلے روز پینتیس شامی تارکین وطن ترکی سے جرمنی پہنچے، جبکہ دیگر کچھ کوفرانس، فن لینڈ اور پرتگال پہنچادیاگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…