ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایک گھریلو ملازمہ نے سپرماڈلز کو کیسے پیچھے چھوڑ دیا؟

datetime 2  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیشن ڈیزائنر اپنے ملبوسات کی نمائش کے لیے بھاری رقوم کے عوض سپرماڈلز کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور ان کی خوبصورتی کو اپنے برانڈ کی تشہیر کا سامان بناتے ہیں لیکن بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک فیشن ڈیزائنر نے اس رحجان کو یکسر فراموش کرتے ہوئے ایک ایسی لڑکی کو اپنے ملبوسات کی ماڈلنگ کے لیے منتخب کر لیا ہے جس کے متعلق کوئی اور فیشن ڈیزائنرسوچ بھی نہیں سکتاتھا۔ خاتون فیشن ڈیزائنر مندیپ ناگی اپنے تیارکردہ نئے ملبوسات کی نمائش کے لیے نئے چہرے کی تلاش میں تھی۔ ایک روز وہ اپنے گھر سے نکل رہی تھی کہ اس کے نظر اپنے ہمسایوں کے گھر میں کام کرنے والی نوکرانی پر پڑی، جسے دیکھتے ہیں مندیپ نے اسے اپنے ملبوسات کی ماڈلنگ کے لیے پسند کر لیا۔ اس نوکرانی کا نام کملا(فرضی نام) تھا جو لوگوں کے گھروں میں کام کرکے اپنے خاندان کو پال رہی تھی۔ کملا اگرچہ سانولی رنگت کی لڑکی تھی لیکن اس کی آنکھیں مندیپ کو پسند آئیں اور اس نے اسے ماڈلنگ میں چانس دینے کا فیصلہ کر لیا۔ جب فوٹو شوٹ کروایا گیا اور وہ شائع ہوا تو حیران کن نتائج سامنے آئے۔ لوگوں کی طرف سے کملا کو کسی سپرماڈلز سے بھی زیادہ پذیرائی ملی۔ بھارت کے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے مندیپ کا کہنا تھا کہ ’’کملا کو جب میں نے ماڈلنگ کی پیش کش کی تو پہلے تو وہ بہت ہچکچائی لیکن پھر اس نے حامی بھر لی۔ کیمرے کے سامنے آنا بھی اس کے لیے بہت مشکل مرحلہ تھا، اسے بہت کچھ بتانا اور سکھانا پڑا، لیکن اس کی ماڈلنگ کی تصاویر شائع ہونے پر جو نتائج سامنے آئے وہ ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر تھے۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…