ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایٹمی ممالک میں تجربات کے مقامات

datetime 25  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عموماً ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کے لیے دور دراز اور غیر معروف مقامات کا انتخاب کرتے ہیں، جو عام افراد کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایٹمی تجربات کے بعد یہ مقامات مشہور تو ہو جاتے ہیں لیکن تابکاری کے اثرات کی موجودگی کی وجہ سے کسی بھی نسل کی مخلوق کی رہائش کے قابل نہیں رہتے۔ ذیل میں کچھ ایسے ہی مقامات کا ذکر کیا جا رہا ہے، جو ناقابلِ یقین طور پر ایٹمی دھماکوں کے تجربات کے لیے استعمال کیے گئے۔
کوہ کمباراں
پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کے لیے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع پہاڑی سلسلے کوہ کمباراں کا انتخاب کیا۔ اگرچہ یہ مقام غیر آباد ہے لیکن کسانوں اور چرواہوں کی مستقل طور پر اس مقام پر آمدورفت رہتی ہے۔
مارا لنگا
جب برطانیہ نے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کا ا?غاز کیا تو اس نے جنوبی آسٹریلیا میں واقع مارالنگا نامی مقام کا انتخاب کیا جہاں دو ٹیسٹ کرنے کے بعد ہتھیاروں کو دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
پوکھران
بھارت نے چین کے خطرے کے پیشِ نظر ایٹمی دھماکوں کی ٹیسٹنگ کے لیے پوکھران کے مقام کا انتخاب کیا۔ اس مقام پر بھارت نے 8 ٹن وزنی بم کا دھماکا کیا۔
بکینی اٹول
امریکا نے بحر الکاہل کے مارشل جزائر کے قریب واقع بکینی اٹول نامی علاقے میں متعدد ایٹمی تجربات کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دیگر ایٹمی تجربات کے مقابلے میں اس مقام کی بیش تر تصاویر اور ویڈیوز ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔
کریتی ماتی
کریتی ماتی ایٹمی تجربات والے دیگر مقامات کے مقابلے میں اس لیے منفرد ہے کہ یہاں امریکا اور برطانیہ دونوں نے نیوکلیئر ٹیسٹنگ کی۔ ابتدا برطانیہ نے کی اور اس کے بعد امریکا نے یہاں 22 ایٹمی دھماکے کیے۔
لوپنور
چین نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات لوپنور میں کیے۔ چین نے مجموعی طور پر یہاں 22 دھماکے کیے جن میں سے نصف زیرِ زمین کیے گئے۔
موروروا
موروروا نامی مقام اس وقت متنازع بنا جب فرانس نے یہاں ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کرنے کا فیصلہ کیا۔ مذکورہ جزیرے پر ایٹمی تجربات کی وجہ سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک کے لیے مسائل نے جنم لیا۔ تاہم اس کے باوجود فرانس یہاں واقع مختلف جزائر کو ایٹمی تجربات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
نووایا زیملیا
یہ ایک دور دراز جزیرہ ہے جو آرکیٹک سرکل میں واقع ہے۔ یہاں 40 برسوں کے دوران سوویت یونین نے 224 ایٹمی دھماکے کیے۔ اسے ایٹمی دھماکوں کے اعتبار سے سب سے بڑا مقام سمجھا جاتا ہے جہاں 50 میگا ٹن وزنی بم دھماکے کیے گئے۔
سیمی پلاٹنسک
اس مقام پر سوویت یونین نے 1949ء سے 1981ء کے دوران 465 ایٹمی دھماکے کیے۔ اس دوران امریکا نے ایک طویل عرصے تک جاسوسی طیاروں اور ڈرونز کے ذریعے اس کی نگرانی کی کوشش بھی کی۔
نواڈا
لاس اینجلس سے ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع نواڈا میں امریکا نے 928 ایٹمی دھماکے کیے جن میں سے 800 زیر زمین تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…