جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

سعودی عرب کے ایک سادہ مزاج ارب پتی کا عروج وزوال

datetime 22  فروری‬‮  2016 |

جدہ(نیوز ڈیسک)اگرچہ آج کے دور میں امراءکی جیسے جیسے تعداد بڑھتی جا رہی ہے ایسے ہی ان کے تذکرے بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے رہتے ہیں مگرخال خال ایسےارب پتی بھی موجود ہیں جن کی دولت وثروت کے چرچے چار دانگ عالم میںمشہور نہیں بلکہ وہ گوشہ گمنامی میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ایسے ہی ایک گم نام ارب پتی کا تعلق سعودی عرب سے ہے جنہوں نےاپنی دولت کو اپنے لیے ذریعہ شہرت نہیں بنایا بلکہ گوشہ گمنامی میں زندگی بسر کردی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 80 سالہ سعودی کاروباری شخصیت سلیمان عبدالعزیز الراجی کی زندگی بہت سوں کے لیے سبق آموز بھی ہے کیونکہ انہوں نے صفر سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ کئی کمپنیوں کے مالک بنے مگر عمر کے آخری حصے میں دولت کا بیشتر حصہ خیرات کرنے کے بعد باقی ماندہ جائیداد اولاد میں بانٹ دی۔ یوں وہ خود ایک بار پھرخالی ہاتھ ہوگئے۔”فوربس“ جریدے کی رپورٹ کے مطابق الحاج سلیمان عبدالعزیز الراجی کی دولت سات ارب 40 کروڑ سے زائد تھی۔ ان میں دو تہائی خیراتی اور رفاہی کاموں کے لیے مختص کردی گئی اور باقی مال و جائیداد بیٹوں میں تقسیم کردی۔الراجی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی صفر سے شروع کی اور آج ایک بار پھر اسی مقام پرکھڑا ہوں جہاں سے زندگی کا آغاز کیا تھا۔ زندگی میں دو مرتبہ مجھے ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جب میری دولت بالکل صفر ہو کر رہ گئی تھی۔الراجی نے اوائل عمری میں قلی، خاکروب، باورچی، ویٹراور اے ٹی ایم بوائے سمیت کئی دوسرے کام کیے۔ یہاں تک ایک وقت آیا کہ اس نے ”الراجی“ کے نام سے اپنا بینک بنا لیا۔ یہ سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا میں پہلا اسلامی بینک تھا۔ اس کے بعد اس کی دولت میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ اس کا شمار سعودی عرب کے ارب پتی لوگوں میں ہونے لگا۔تجارت اور کاروبار کے بارے میں سلیمان الراجی کا کہنا ہے کہ تجارت کا پیشہ خساروں اور خطرات سے بھرپور ہے۔ الراجی غربت کے باعث بچپن میں تعلیم حاصل نہ کرسکے ،ان تھک محنت اور مشقت نے انہیں ایک کامیاب تاجر بنا دیا۔دولت کی طرح اللہ نے سلیمان الراجی کو اولاد کی نعمت سے بھی بھرپور نوازا۔ انہوں نے چار شادیاں کیں جن سے ان کی مجموعی اولاد 23 بیٹے بیٹیاں ہیں۔انہوں نے سنہ 1987ءمیں سلیمانی الراجی بینک کی بنیاد 15 ارب ریال سے رکھی۔ آج اس بینک کی سعودی عرب میں 500اردن میں 6 اور ملائیشیا میں 19 برانچیں چل رہی ہیں جبکہ سعودی عرب میں ان کے بینک کے 2750 اے ٹی ایم سینٹر زہیں۔الراجی نے بتایا کہ ان کی کامیابی کا راز ان تھک محنت ہے۔ وہ ہمیشہ کام پر دوسروں سے پہلے آتے اور سب سے ا?خر میں گھر لوٹتے۔ اگر ہفتے میں نو دن بھی ہوتے تب بھی وہ اپنی مصروفیات اسی طرح جاری رکھتے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…