پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیس بک کا استعمال ترک نہ کرنے کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔

datetime 12  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جوں جوں دنیا ترقی کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے بے خوابی کامرض بڑھتا جا رہا ہے ۔ابھی حال ہی میں ماہرین کے انکشاف کے مطابق اگر آپ سونے کے لیے لیٹے ہیں مگر فیس بک کے ننھے سرخ نوٹیفکیشن پر کلک کرنے کی بے چینی محسوس ہورہی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو درحقیقت آپ نیند کی کمی کا شکار ہیں۔کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ناقص نیند بے مقصد فیس بک چیکنگ کی خواہش پیدا کرتی ہے جبکہ یہ مزاج اور تخلیقی صلاحیت کو گھٹاتی ہے۔درحقیقت چند روز پہلے بھی ایک تحقیق میں یہ بات سانے آئی تھی کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال نیند میں مداخلت کا باعث بن سکتا ہے۔اس نئی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیند میں مسائل اور بہت زیادہ سوشل میڈیا سرفنگ کے درمیان تعلق موجود ہے۔مناسب نیند توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کے لیے بہت ضروری ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہمارا دھیان زیادہ جلدی بھٹک جاتا ہے اور اس کے لیے فیس بک سے زیادہ بہتر کیا چیز ہے؟محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ ذہنی طور پر انتشار کا شکار ہو تو کیا کریں گے؟ یقیناً سہولت موجود ہوئی تو فیس بک کا رخ کریں گے کیونکہ اسے استعمال کرنا بہت آسان ہے۔اس تحقیق کے دوران 76 طالبعلموں پر ایک سمسٹر کے دوران 7 روز تک تجربات کیے گئے اور ان کی ڈیوائسز پر ٹریکنگ سافٹ ویئرز کے ذریعے نظر رکھی گئی۔نتائج سے فیس بک کے بہت زیادہ استعمال، نیند کی کمی، چڑچڑا پن اور الگ تھلگ رہنے کے رجحان میں واضھ تعلق سامنے آیا ہے۔محققین کے مطابق طالبعلموں کی نیند جتنی کم ہوئی اتنا ہی زیادہ فیس بک کا استعمال بڑھا اور یہ بات سامنے آئی کہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے وہ ایسی سرگرمیوں کی تلاش کرتے ہیں جس میں ذہنی صلاحیتوں کا استعمال کم سے کم ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص تھکا ہوا ہو تو اس کے لیے عام سرگرمیوں کا حصہ بننا مشکل ہوتا ہے تو ہلکا اور اور آسان چیز کرنے کو عادت بنالینا قابل فہم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…