جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

فیس بک کا استعمال ترک نہ کرنے کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔

datetime 12  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جوں جوں دنیا ترقی کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے بے خوابی کامرض بڑھتا جا رہا ہے ۔ابھی حال ہی میں ماہرین کے انکشاف کے مطابق اگر آپ سونے کے لیے لیٹے ہیں مگر فیس بک کے ننھے سرخ نوٹیفکیشن پر کلک کرنے کی بے چینی محسوس ہورہی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو درحقیقت آپ نیند کی کمی کا شکار ہیں۔کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ناقص نیند بے مقصد فیس بک چیکنگ کی خواہش پیدا کرتی ہے جبکہ یہ مزاج اور تخلیقی صلاحیت کو گھٹاتی ہے۔درحقیقت چند روز پہلے بھی ایک تحقیق میں یہ بات سانے آئی تھی کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال نیند میں مداخلت کا باعث بن سکتا ہے۔اس نئی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیند میں مسائل اور بہت زیادہ سوشل میڈیا سرفنگ کے درمیان تعلق موجود ہے۔مناسب نیند توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کے لیے بہت ضروری ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہمارا دھیان زیادہ جلدی بھٹک جاتا ہے اور اس کے لیے فیس بک سے زیادہ بہتر کیا چیز ہے؟محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ ذہنی طور پر انتشار کا شکار ہو تو کیا کریں گے؟ یقیناً سہولت موجود ہوئی تو فیس بک کا رخ کریں گے کیونکہ اسے استعمال کرنا بہت آسان ہے۔اس تحقیق کے دوران 76 طالبعلموں پر ایک سمسٹر کے دوران 7 روز تک تجربات کیے گئے اور ان کی ڈیوائسز پر ٹریکنگ سافٹ ویئرز کے ذریعے نظر رکھی گئی۔نتائج سے فیس بک کے بہت زیادہ استعمال، نیند کی کمی، چڑچڑا پن اور الگ تھلگ رہنے کے رجحان میں واضھ تعلق سامنے آیا ہے۔محققین کے مطابق طالبعلموں کی نیند جتنی کم ہوئی اتنا ہی زیادہ فیس بک کا استعمال بڑھا اور یہ بات سامنے آئی کہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے وہ ایسی سرگرمیوں کی تلاش کرتے ہیں جس میں ذہنی صلاحیتوں کا استعمال کم سے کم ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص تھکا ہوا ہو تو اس کے لیے عام سرگرمیوں کا حصہ بننا مشکل ہوتا ہے تو ہلکا اور اور آسان چیز کرنے کو عادت بنالینا قابل فہم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…