بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

تاشفین ملک کا کیس نیا رُخ اختیار کرگیا

datetime 11  فروری‬‮  2016 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے کہاہے کہ اس کے ماہرین تاحال اس فون میں موجود مواد تک رسائی میں ناکام رہے جو گذشتہ سال سان برنارڈینو میں عام شہریوں پر حملہ کرنے والے والے جوڑے کی ملکیت تھا،میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی شہری سید رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک نے شدت پسندگروپ دولت اسلامیہ سے متاثر ہو کر ریاست کیلیفورنیا میں 14 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔یہ دونوں افراد حملے کے بعد پولیس سے مقابلے میں مارے گئے تھے اور حکام کو فاروق کے پاس سے ایک موبائل فون ملا تھا۔تاہم ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کا کہنا تھا کہ انکرِپشن ٹیکنالوجی کے سبب اس فون کو ابھی تک نہیں کھولا جا سکا ہے یا بہ الفاظ دگر یہ نہیں پتہ چل سکا کہ اس فون میں کیا مواد موجود ہے۔جیمز کومی نے یہ بات امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی سماعت کے دوران بتائی۔انھوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’وسیع پیمانے‘ پر پریشانیاں لاحق ہیں۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے کہاکہ یہ (ٹیکنالوجی) پولیس، استغاثہ اور تحقیقات کرنے والے ان اہلکاروں کو متاثر کرتی ہے جو کہ کسی قتل، اغوا یا منشیات کے معاملے کی تفتیش کر رہے ہوتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس کے اثرات ہماری قومی سلامتی پر بھی پڑتے ہیں لیکن زیادہ تر یہ مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والوں کے لیے ایک مسئلہ ہے۔دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیاں زیادہ سے زیادہ ایسی مصنوعات کو فروغ دے رہی ہیں جسے صرف اس کا مالک ہی پورے طور پر استعمال کرسکے۔بہرحال ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ ایف بی آئی کے ڈائرکٹر نے ایسی ٹیکنالوجی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جو صارفین کی پرائیویسی کا تحفظ کرتی ہے اور اس طرح مجرموں کو قوت بخشتی ہے۔گذشتہ سال وائٹ ہاو¿س نے ایف بی آئی کے اعتراض کے باوجود کمپنیوں سے انکرپٹڈ ڈیٹا کے اشتراک کے منصوبے کو ترک کر دیا تھا۔لیکن یہ مسئلہ سان برنارڈینو اور پیرس میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کےپیش نظر بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ماہرین نے ایسی صورت حال میں بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر کمپنیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذاتی معلومات تک رسائی دیتی ہیں تو اس سے ہیکرز کو بھی وہاں تک رسائی مل سکتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…