جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

موت کی پیشگوئی کرنے والا کیلکولیٹر

datetime 9  فروری‬‮  2016 |

لندن(نیوزڈیسک)
واضح رہے کہ دین اسلام میں اس قسم کی چیزوں کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ،مندرجہ ذیل تحریر محض صحت کے حوالے سے غیر مسلموں کی ایک تحقیق پر مبنی ہے۔جیسا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوت اور استطاعت کے مطابق علاج و معالجے سے اپنی حالت بہتر بناسکتاہے۔ بحرحال موت کاحقیقی وقت تو اللہ تعالیٰ نے ہی مقرر کیا ہوا ہے اور جو وقت متعین ہے موت اسی وقت آئے گی۔مندرجہ ذیل تحقیق صرف معلومات عامہ کیلئے شائع کی جارہی ہے۔
طبّ و صحت کے شعبوں کے محققین نے سائنسی بنیادوں پر موت کے خطرات سے خبردار کرنے والا ایک ایسا کیلکولیٹر تیار کیا ہے، جو کسی بھی شخص کو یہ بتا سکتا ہے کہ آیا اگلے پانچ سال کے اندر اندر وہ موت کے منہ میں جا سکتا ہے۔نیوز ایجنسی نے لندن سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس کیلکولیٹر کے ذریعے یہ محققین لوگوں میں اپنی صحت کو بہتر بنانے کے حوالے سے زیادہ بہتر آگہی کی امید کر رہے ہیں۔دراصل یہ ایک سوالنامہ ہے، جس میں کوئی درجن بھر سوالات رکھے گئے ہیں۔ ان میں آپ سے مثلاً یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس کتنی کاریں ہیں یا آیا آپ عام طور پر آہستہ یا تیز چلتے ہیں۔ کاروں کی تعداد سے آپ کی خوشحالی کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے جبکہ تیز چلنا اچھی صحت کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ کیلکولیٹر چالیس سال سے لے کر ستر سال تک کی عمر کے کسی برطانوی شہری کو یہ بتا سکتا ہے کہ اگلے پانچ برسوں کے اندر اندر ا±س کے انتقال کر جانے کے خطرات کس حد تک ہیں۔محققین نے یہ کیلکولیٹر ایک فلاحی ادارے ’سینس اباو¿ٹ سائنس‘ کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ یہ ادارہ لوگوں کو سائنسی اور طبّی دعوے سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس کیلکولیٹر کے نتیجے میں لوگوں میں اپنی صحت کے حوالے سے شعور اور آگہی میں اضافہ ہو گا اور مستقبل میں فیملی ڈاکٹروں کو اس کی مدد سے انتہائی زیادہ خطرات سے دوچار مریضوں کو پہچاننے میں مدد مل سکے گی۔اس کیلکولیٹر کے بارے میں تفصیلات ’دی لینسٹ‘ نامی طبی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔ اس تحقیق کے معاون محقق سویڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ سے وابستہ آندریا گینا نے بتایا کہ ’کسی قسم کے لیبارٹری ٹیسٹ یا جسمانی معائنے کے بغیر آپ صرف ایک مختصر سے آن لائن سوالنامے ہی کی مدد سے آئندہ پانچ سال کے اندر اندر موت کے ممکنہ خطرات کو جانچ سکتے ہیں‘۔اس سوالنامے کی تیاری کے سلسلے میں گینا اور سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں ا±ن کے ساتھی محقق ایرک انگلسن نے ا±ن اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، جو برطانیہ کے بائیو بینک نے 2006ءاور 2010ءکے درمیان چالیس تا ستّر سال کے بالغ برطانوی شہریوں کے بارے میں جمع کیے تھے۔ان محققین نے بقا کے امکانات بتانے والا ایک حسابی ماڈل تیار کیا، جس کی مدد سے آبادی، طرزِ زندگی اور صحت سے متعلق 655 مخصوص پیمانوں کی بنیاد پر کسی بھی کیس میں یا پھر مردوں اور خواتین میں الگ الگ چھ مخصوص کیسوں میں موت سے متعلق پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔تاہم گینا نے اس کیلکولیٹر کے حوالے سے محتاط رہنے کا بھی مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پیمائش کسی حد تک غیر یقینی بھی ہے اور اسے کسی لازمی پیشگوئی کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔آندریا گینا نے نیوز ایجنسی سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر افراد اپنی ورزش میں اضافہ کرتے ہوئے، تمباکو نوشی چھوڑتے ہوئے اور زیادہ صحت بخش غذا کھاتے ہوئے آئندہ پانچ برسوں کے اندر اندر اپنی موت کے خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…