لندن(نیوزڈیسک)
واضح رہے کہ دین اسلام میں اس قسم کی چیزوں کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ،مندرجہ ذیل تحریر محض صحت کے حوالے سے غیر مسلموں کی ایک تحقیق پر مبنی ہے۔جیسا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوت اور استطاعت کے مطابق علاج و معالجے سے اپنی حالت بہتر بناسکتاہے۔ بحرحال موت کاحقیقی وقت تو اللہ تعالیٰ نے ہی مقرر کیا ہوا ہے اور جو وقت متعین ہے موت اسی وقت آئے گی۔مندرجہ ذیل تحقیق صرف معلومات عامہ کیلئے شائع کی جارہی ہے۔
طبّ و صحت کے شعبوں کے محققین نے سائنسی بنیادوں پر موت کے خطرات سے خبردار کرنے والا ایک ایسا کیلکولیٹر تیار کیا ہے، جو کسی بھی شخص کو یہ بتا سکتا ہے کہ آیا اگلے پانچ سال کے اندر اندر وہ موت کے منہ میں جا سکتا ہے۔نیوز ایجنسی نے لندن سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس کیلکولیٹر کے ذریعے یہ محققین لوگوں میں اپنی صحت کو بہتر بنانے کے حوالے سے زیادہ بہتر آگہی کی امید کر رہے ہیں۔دراصل یہ ایک سوالنامہ ہے، جس میں کوئی درجن بھر سوالات رکھے گئے ہیں۔ ان میں آپ سے مثلاً یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس کتنی کاریں ہیں یا آیا آپ عام طور پر آہستہ یا تیز چلتے ہیں۔ کاروں کی تعداد سے آپ کی خوشحالی کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے جبکہ تیز چلنا اچھی صحت کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ کیلکولیٹر چالیس سال سے لے کر ستر سال تک کی عمر کے کسی برطانوی شہری کو یہ بتا سکتا ہے کہ اگلے پانچ برسوں کے اندر اندر ا±س کے انتقال کر جانے کے خطرات کس حد تک ہیں۔محققین نے یہ کیلکولیٹر ایک فلاحی ادارے ’سینس اباو¿ٹ سائنس‘ کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ یہ ادارہ لوگوں کو سائنسی اور طبّی دعوے سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس کیلکولیٹر کے نتیجے میں لوگوں میں اپنی صحت کے حوالے سے شعور اور آگہی میں اضافہ ہو گا اور مستقبل میں فیملی ڈاکٹروں کو اس کی مدد سے انتہائی زیادہ خطرات سے دوچار مریضوں کو پہچاننے میں مدد مل سکے گی۔اس کیلکولیٹر کے بارے میں تفصیلات ’دی لینسٹ‘ نامی طبی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔ اس تحقیق کے معاون محقق سویڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ سے وابستہ آندریا گینا نے بتایا کہ ’کسی قسم کے لیبارٹری ٹیسٹ یا جسمانی معائنے کے بغیر آپ صرف ایک مختصر سے آن لائن سوالنامے ہی کی مدد سے آئندہ پانچ سال کے اندر اندر موت کے ممکنہ خطرات کو جانچ سکتے ہیں‘۔اس سوالنامے کی تیاری کے سلسلے میں گینا اور سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں ا±ن کے ساتھی محقق ایرک انگلسن نے ا±ن اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، جو برطانیہ کے بائیو بینک نے 2006ءاور 2010ءکے درمیان چالیس تا ستّر سال کے بالغ برطانوی شہریوں کے بارے میں جمع کیے تھے۔ان محققین نے بقا کے امکانات بتانے والا ایک حسابی ماڈل تیار کیا، جس کی مدد سے آبادی، طرزِ زندگی اور صحت سے متعلق 655 مخصوص پیمانوں کی بنیاد پر کسی بھی کیس میں یا پھر مردوں اور خواتین میں الگ الگ چھ مخصوص کیسوں میں موت سے متعلق پیشگوئی کی جا سکتی ہے۔تاہم گینا نے اس کیلکولیٹر کے حوالے سے محتاط رہنے کا بھی مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پیمائش کسی حد تک غیر یقینی بھی ہے اور اسے کسی لازمی پیشگوئی کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔آندریا گینا نے نیوز ایجنسی سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر افراد اپنی ورزش میں اضافہ کرتے ہوئے، تمباکو نوشی چھوڑتے ہوئے اور زیادہ صحت بخش غذا کھاتے ہوئے آئندہ پانچ برسوں کے اندر اندر اپنی موت کے خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔
موت کی پیشگوئی کرنے والا کیلکولیٹر
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
تنخواہوں کے حوالے سے سرکاری ملازمین کیلئے ایک اور خوشخبری
-
پاکستان کا المیہ
-
ایرانی ریال کے نئے نرخ سامنے آ گئے
-
علی خامنہ ای کے جنازے پر اسرار نقاب پوش کون تھا؟ شناخت ظاہر
-
اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس، ثاقب چدھڑ بارے عدالت کا اہم فیصلہ آگیا
-
عمران خان اور جمائمہ کا تاریخی لندن والا گھر فروخت کے لیے پیش، قیمت جان کر حیران رہ جائیں گے
-
تولدے گیبریماریم کو پی آئی اے کی قیادت سونپنے کا فیصلہ
-
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
-
امارات کے نائب صدر 77 ویں سالگرہ منانے اسکاٹ لینڈ میں اپنی دلکش اراضی میں پہنچ گئے
-
نئی آٹو پالیسی آخری مراحل میں، کیا گاڑیاں سستی ہوں گی؟
-
پاکستانیوں کے لیے خوشخبری! سعودی عرب نے نیا پیکیج ویزا متعارف کرا دیا
-
رشتہ دار نے 6 سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
100 روپے کی دہی منگوانے پر شوہر کا بیوی پر تشدد، گولی مار دی
-
فیفا ورلڈ کپ 2026؛ میسی کا نیا ریکارڈ، ایمباپے کو پیچھے چھوڑ دیا



















































