ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

گوگل میں200 بھرتیاں، انسانوں کے بعد اب جانوروں کو بھی تنخوا ملے گی، کسے اور کتنی ؟ جا نیئے

datetime 8  فروری‬‮  2016 |

نیویارک(نیوز ڈیسیک)عالمی سرچ انجن ”گوگل“ کے دنیا بھرمیں ویسے تو سیکڑوں ملازمین کام کررہے ہیں مگرآپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ ہردل عزیز سرچ انجن کے امریکا میں قائم ہیڈ کواٹر میں 200 بکریاں بھی تنخواہ پر کام کرتی ہیں۔گوگل کی ملازم بکریوں کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہوگا مگر یہ بکریاں پچھلے کئی سال سے کام کرتی ہیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق گوگل نے ماو¿ٹینٹ بیو میں اپنے ہیڈ آفس کےلیے دو سو بکریوں کو بہ طور چرنے کے لیے رکھا ہوا ہے جہاں یہ بکریاں صدر دفتر کے لان میں اگنی والی گھاس چرتی ہیں، ان بکریوں کو باقاعدہ تنخواہ کے ساتھ دیگر مراعات بھی دی جاتی ہیں۔ بکریوں کو ہفتے میں ایک بارہیڈ آفس کے لان میں گھاس چرانے کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس طرح صحن میں گھاس کی ٹریمنگ کے ساتھ ساتھ بکریوں کا پیٹ بھی بھر جاتا ہے۔گوگل نے اپنے افیشل بلاگ پربھی بکریوں کوبہ طور ملازم رکھنے کی تصدیق کی ہے۔ گوگل کے دفتر میں جہاں بکریوں کی موجیں لگی رہتی ہیں وہیں کرمچاری بکریوں کے ذریعے فرینڈلی تعاون فراہم کرنے پر انتظامیہ کا شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل اپنے دفتر کے لان میں اگنے والی گھاس کی کٹائی کے لیے مشین استعمال نہیں کرتا۔ اس کی بنیادی وجہ دفتر کے عملے کو گھاس کٹائی کی مشین کے دھوئیں اور اس کے شور سے پیدا ہونے والی آلودگی سے محفوظ رکھنا ہے۔گوگل کی ملازم بکریوں کے لیے چراہوں کو بھی ٹریننگ دی گئی ہے تاکہ بکریوں کو دفاتر کے اندر جانے سے روکا جاسکے اور انہیں صرف دفتر کے لان تک گھاس چرنے تک محدود رکھا جاسکے۔ مشین کے ذریعے گھاس کٹائی کے بجائے بکریوں کے استعمال سے دفتر کے ماحول کو خوش گوار رکھنا ہے، کیونکہ بکریوں کی آواز سے سکون ملتا ہے۔یہاں یہ امرقابل ذکر رہے کہ بکریوں کے ذریعے گھاس کٹائی کا کام پہلی بار نہیں کیا گیا بلکہ سنہ 2007ءمیں ”یاھو“ بھی بکریوں کو کرمچاری کے طور پراستعمال کرچکا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…