ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

دوعالمی جنگوں میں غیرجانبدار رہنے والے سویڈن کوتیسری عالمی جنگ کی آہٹ محسوس ہوگئی!،جرنیل نے خطرناک دعویٰ کردیا

datetime 6  فروری‬‮  2016 |

سٹاک ہوم(نیوزڈیسک)گزشتہ 200 سال سے سوئیڈن نے کوئی جنگ نہیں لڑی لیکن اب ملک کے اہم ترین جرنیل نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں تیسری عالمی جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔جاری کردہ بیان میں میجر جنرل آندرس برانستروم نے کہا ہے کہ جس عالمی صورت حال کا ہمیں سامنا ہے اور تزویراتی فیصلے بھی ہمیں جس سمت لے کر جا رہے ہیں ان کا نتیجہ آئندہ چند سالوں میں ایک جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اب فوج میں ہمارے لیے یہ لازم ہے کہ سیاسی فیصلوں کو پوری طاقت کے ساتھ نافذ کریں۔انہوں نے یہ بیان اس کتابچے میں چھپنے کے لیے دیا ہے جو اگلے ہفتے مسلح افواج کی ایک کانفرنس میں تقسیم کی اجائے گا۔ نتیجتاً تنازع بھی پیدا ہو گیا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ خطرہ واقعتاً موجود بھی ہے؟ اور اگر ہے تو یورپ اس سے نمٹنے کی طاقت رکھتا ہے؟ کیا سوئیڈن اپنا دفاع کر سکتا ہے؟جنرل برانستروم لکھتے ہیں کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سوئیڈن کی عسکری تزویراتی سوچمیں تبدیلی کی ہے۔ اب بین الاقوامی انتظامی آپریشنز میں مدد کے بجائے اس کی توجہ “ایک مضبوط دشمن کے خلاف مسلح جنگ کی صلاحیت” پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سوئیڈن اپنی فوجی طاقت کو عسکری حملوں کے خلاف موثر بناچکا ہے اور وہ ملک کا بھرپور دفاع کرے گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پوری دنیا جنگ میں کود چکی تھی، یعنی دونوں عالمی جنگوں کے دوران، سوئیڈن تب بھی غیر جانب دار تھا۔ لیکن حالیہ چند سالوں میں وہ نیٹو میں شمولیت کے لیے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے اور یورپی یونین کے ساتھ بھی تعلقات بڑھا چکا ہے۔سوئیڈن کی انٹیلی جنس ایجنسی ساپو نے گزشتہ سال ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ روس ہے۔روس کے یوکرین معاملے میں رویے اور اسٹونیا، لٹویا اور لتھووینیا جیسے چھوٹے ممالک کے حوالے سے اس کے دھمکی آمیز انداز نے سوئیڈن کی مغربی اتحاد میں دلچسپی کو مزید بڑھایا ہے۔گزشتہ سال ایک پول میں پایا گیا کہ 41 فیصد آبادی نیٹو میں شمولیت کی حامی ہے، جبکہ 39 فیصد سے ان کی مخالفت کی۔ پانچ سال پہلے حامیوں کی تعداد محض 23 فیصد تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…