پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

دوعالمی جنگوں میں غیرجانبدار رہنے والے سویڈن کوتیسری عالمی جنگ کی آہٹ محسوس ہوگئی!،جرنیل نے خطرناک دعویٰ کردیا

datetime 6  فروری‬‮  2016 |

سٹاک ہوم(نیوزڈیسک)گزشتہ 200 سال سے سوئیڈن نے کوئی جنگ نہیں لڑی لیکن اب ملک کے اہم ترین جرنیل نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں تیسری عالمی جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔جاری کردہ بیان میں میجر جنرل آندرس برانستروم نے کہا ہے کہ جس عالمی صورت حال کا ہمیں سامنا ہے اور تزویراتی فیصلے بھی ہمیں جس سمت لے کر جا رہے ہیں ان کا نتیجہ آئندہ چند سالوں میں ایک جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اب فوج میں ہمارے لیے یہ لازم ہے کہ سیاسی فیصلوں کو پوری طاقت کے ساتھ نافذ کریں۔انہوں نے یہ بیان اس کتابچے میں چھپنے کے لیے دیا ہے جو اگلے ہفتے مسلح افواج کی ایک کانفرنس میں تقسیم کی اجائے گا۔ نتیجتاً تنازع بھی پیدا ہو گیا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ خطرہ واقعتاً موجود بھی ہے؟ اور اگر ہے تو یورپ اس سے نمٹنے کی طاقت رکھتا ہے؟ کیا سوئیڈن اپنا دفاع کر سکتا ہے؟جنرل برانستروم لکھتے ہیں کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سوئیڈن کی عسکری تزویراتی سوچمیں تبدیلی کی ہے۔ اب بین الاقوامی انتظامی آپریشنز میں مدد کے بجائے اس کی توجہ “ایک مضبوط دشمن کے خلاف مسلح جنگ کی صلاحیت” پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سوئیڈن اپنی فوجی طاقت کو عسکری حملوں کے خلاف موثر بناچکا ہے اور وہ ملک کا بھرپور دفاع کرے گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پوری دنیا جنگ میں کود چکی تھی، یعنی دونوں عالمی جنگوں کے دوران، سوئیڈن تب بھی غیر جانب دار تھا۔ لیکن حالیہ چند سالوں میں وہ نیٹو میں شمولیت کے لیے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے اور یورپی یونین کے ساتھ بھی تعلقات بڑھا چکا ہے۔سوئیڈن کی انٹیلی جنس ایجنسی ساپو نے گزشتہ سال ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ روس ہے۔روس کے یوکرین معاملے میں رویے اور اسٹونیا، لٹویا اور لتھووینیا جیسے چھوٹے ممالک کے حوالے سے اس کے دھمکی آمیز انداز نے سوئیڈن کی مغربی اتحاد میں دلچسپی کو مزید بڑھایا ہے۔گزشتہ سال ایک پول میں پایا گیا کہ 41 فیصد آبادی نیٹو میں شمولیت کی حامی ہے، جبکہ 39 فیصد سے ان کی مخالفت کی۔ پانچ سال پہلے حامیوں کی تعداد محض 23 فیصد تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…