ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بھارت کی رہائشی بچی کے کان میں چیونٹیوں نے بسیر اکرلیا

datetime 5  فروری‬‮  2016 |

گجرات(نیوز ڈیسک)کیڑے مکوڑوں کو اپنا گھر بنانے کے لیے کسی حد کی ضرورت نہیں ہوتی اور خاص طور پر چیونٹیوں کے لیے کیونکہ وہ گھر کے کسی بھی کونے میں گھر بنا لیتی ہیں لیکن بھارت میں تو چیونٹیوں نے حد ہی کردی اور ایک بچی کے کان میں اپنا گھر بنا لیا جہاں وہ بلا روک ٹوک رہ رہی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بچی کو بھہ ان کے رہنے سے کوئی تکلیف نہیں۔بھارتی ریاست گجرات کے علاقے ڈیسا کی رہنے والی شیریا دارجی نامی بچی کے کانوں میں چیونٹیاں گزشتہ ایک سال سے مہمان بنی ہوئی ہیں اور جانے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں جب کہ کہا جا رہا ہے کہ اب جا کر چیونٹیوں نے وہاں سے واپسی کا سفر شروع کیا ہے اور روزانہ 10 چیونٹیاں باہر نکل رہی ہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچی کے ایم آر آئی اور سٹی اسکین سمیت دیگر کئی نازک اسکین کرلیے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے کان، دماغ، گلے اور ناک میں ان چیونٹیوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی بچی کو ان چیونٹیوں سے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہورہی جب کہ چیونٹیاں اسے کاٹتی بھی ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بچی کا ایئر ڈرم بھی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق اب تک وہ بچی کے کان سے ایک ہزار چیونٹیوں کو نکال چکے ہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچی صحت مند ماحول میں رہ رہی ہے اس لیے ماحول کو بھی اس کا الزام نہیں دیا جا سکتا۔ ڈاکٹر کا کہنا ہیوہ کوشش کر رہے ہیں کہ چیونٹیوں کو بے ہوش کر کے نکالا جائے لیکن وہ مسلسل پرورش پا رہی ہیں۔ بچی کے والد کا کہنا ہے کہ شیریا کی طبیعت مسلسل خراب ہورہی ہے اور اس کی صحت سے وہ پریشان ہیں حالانکہ وہ ملک کے سب سے بہترین ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے ا?ئے تھے لیکن ڈاکٹرز کچھ نہیں کر پار رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…