ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

’’فلائی شپ‘‘ ہوائی جہازبن کر پروازکرنے والی انوکھی کشتی

datetime 28  جنوری‬‮  2016 |

برلن(نیوز ڈیسک) جرمن انجینیئروں نے ایک انوکھی کشتی کا منصوبہ پیش کیا ہے جو بہ یک وقت کشتی، ہوائی جہاز اور ہوورکرافٹ کا ملاپ ہے۔’’فلائی شپ‘‘ کو مستقبل کے ٹرانسپورٹ کو نام دیا گیا ہے جو اس وقت ڈرائنگ بورڈ پر ہے لیکن عملی صورت پر یہ پانی کی سطح سے بلند رہتے ہوئے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے۔ جرمن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایجاد پانی پر نقل وحمل کو ایک نیا معنی دے گی اور اس سے بحری قزاقوں کو روکنا بھی ممکن ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے نام کی طرح اسے مسافروں کو پہنچانے، سمندری حدود کی نگرانی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اس میں سامان بھر کر روایتی جہازوں کے مقابلے میں بہت تیزی سے ایک ملک سے دوسرے ملک تک بھیجا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے بازوؤں کے نیچے ہوا کا ایک گدا بنے گا جس سے یہ ہوورکرافٹ کی طرح آگے بڑھے گا کیونکہ اسے سمندروں پر پرواز کے لیے بنایا جائے گا۔ 37 ملین ڈالر سے بننے والے فلائی شپ کے کیبن میں 1500 مربع فٹ جگہ ہوگی اور بازوؤں کا گھیر 40 میٹر رکھا جائے گا جو تکونی یا ڈیلٹا شکل کے ہوں گے۔ماہرین نے اس کی تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام جیٹ (مسافر) طیارے فی گھنٹہ 3300 لیٹر پیٹرول ضائع ہیں جب کہ فلائی شپ کو صرف 270 لیٹر فی گھنٹہ پیٹرول درکار ہوگا جو ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے جب کہ اس میں 2 عدد جدید ٹربو پروپلشن انجن نصب ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اڑنے والی کشتی کے ذریعے سفر کم خرچ اور محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…