ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی نے ایڈز سے بچنے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا:’صرف کنواری طا لبات کو سکالرشپ ملے گا

datetime 26  جنوری‬‮  2016 |

کیپ ٹاؤن(نیوز ڈیسک)جنوبی افریقہ کی ایک میئر یونیورسٹی میں 16 طالبہ کو کنواری رہنے کی شرط پر سکالرشپ دینے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔میئر ڈودو موزیبکو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد صوبہ کوازولو ناتال کے ضلع اوتھوکیلا میں جوان لڑکیوں کو ایچ آئی وی، ایڈز اور خواہش کے بغیر حاملہ ہونے سے روکنا ہے۔انھوں نے بتایا کہ سکالرشپ حاصل کرنے والی طالبہ کو باقاعدگی سے کنوارے پن کے ٹیسٹ کے ذریعے ثبوت دینا ہو گا۔ایک اندازے کے مطابق جنوبی افریقہ میں 63 لاکھ افراد کو ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہے۔جنوبی افریقہ میں عورتوں سے بدسلوکی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم (Powa) کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ سکالرشپ کی شرط لڑکیوں کے حقوق اور ان کی عزت و وقار کی خلاف ورزی ہیں۔‘اڈوملنگ مولوکو کے مطابق’ کنوارے پن کے ٹیسٹ سے ایچ آئی وی اور ایڈز کو نہیں روکا جا سکتا۔‘میئر ڈودو موزیبکو کے مطابق سکالرشپ حاصل کرنے والی طالبہ کا پہلے ہی سالانہ زولو تہوار کے لیے کنوارے پن کا ٹیسٹ ہو چکا ہے۔اس تہوار میں صرف کنواری لڑکیاں اور خواتین ہی رقص کر سکتی ہیں۔بی بی سی کے ایک سوال کہ آیا اگر ان کی اپنی بیٹیوں کو بھی اس ٹیسٹ کے لیے کہا جائے تو آپ کا ردعمل ہو گا؟اس پر میئر ڈودو موزیبکو نے کہا ہے کہ ہاں بالکل ان کی پوتیاں اس برس کے زولو تہوار میں شرکت کی خواہش مند ہیں۔جنوبی افریقہ میں صنفی برابری کے لیے کام کرنے والے کمیشن نے بھی اس اقدام پر تنقید کی ہے۔کمیشن کے چیئرمین نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ’ میرے خیال میں میئر کا اقدام اچھا ہے لیکن ہم کنوارے پن کی شرط پر سکالرشپ دینے کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔خیال رہے کہ جنوبی افریقہ میں کوازولو ناتال کا شمار ان صوبوں میں ہوتا ہے جہاں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…