جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اورنج لائن میٹرو ٹرین،پنجاب حکومت نے متاثرین کی چاندی کرادی

datetime 23  جنوری‬‮  2016 |

لاہور( نیوزڈیسک )حکومت پنجاب کے ترجمان نے لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کے بارے اقوام متحدہ کے دو (غیر معروف )ذیلی اداروں کے نمائندوں کی طرف ظاہر کردہ خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کے اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ اورنج لائن ٹرین کے لئے حاصل کی جانے والی اراضی کے مالکان کو معاوضہ دینے کے لئے 20ارب روپے مختص کئے گئے ہےں، اس معاوضے کا ریٹ شہر میں اس سے پہلے مکمل کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں سے تقریبا دو گنا ہے۔اسی طرح انہیں کاروبار کے نقصان اور نقل مکانی کے معاوضے کے طور پر بھی زیادہ سے زیادہ رقم ادا کی جا رہی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ شہر کے گنجان آباد اور قدیم علاقوں میں واقع جائیداوں کی ملکیتی دستاویزات نہ رکھنے والے قابضین کو بھی 20لاکھ روپے فی مرلہ تک معاوضہ ادا کرنے کی تجویز کا جائزہ زیر غور ہے ۔ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اورنج لائن منصوبے کا ٹریک اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے جس کے لئے کم سے کم اراضی درکار ہ وتا کہ کم سے کم شہری اس سے متاثر ہوں۔ٹریک کے راستے میں آنے والی جائیدادوں کے مالکان سے ان کے زیر استعمال اراضی حاصل کرنے کے لئے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں اور انہیں مارکیٹ ریٹ سے بھی بہتر معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین کا روٹ ٹریفک کاﺅنٹ سروے کروانے کے بعد باقاعدہ تحقیق کر کے اختیار کیا گیا ہے ‘ علی ٹاﺅن رائے ونڈ روڈ سے ڈیرہ گجراں جی ٹی روڈ تک ٹریک کی کل لمبائی 27کلو میٹر ہے جس پر 26سٹیشن تعمیر کئے جائیں گے ۔یہ ٹریک شہر کے مصروف اور گنجان آباد علاقوں سے گزرے گا اور اس سے روزانہ اڑھائی لاکھ سے زائد شہری مستفید ہوں گے ۔چنانچہ یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ اس کے روٹ میں بار بار تبدیلیاں کی جا رہی ہیں ۔ترجمان نے کہا کہ میٹرو ٹرین کے راستے کے اطراف میں واقع تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ٹریک بھی ممکن حد تک ان عمارتوں سے دور رکھنے کیلئے اضافی اخراجات کئے جا رہے ہیں ۔شالامار باغ سے ٹرین کا ٹریک کم از کم 29میٹر دور رکھنے لئے 35کروڑ روپے سے ساڑھے چار کنال ( 85مرلے) اراضی خصوصی طور پر ایکوائر کی جارہی ہے ۔ٹرین کو چوبرجی سے بھی ممکن حد تک (16میٹر یا 52.5فٹ ) دور رکھنے کے لئے 9کروڑ روپے سے ڈیڑھ کنال (30مرلے)اراضی حاصل کی جارہی ہے ۔ قیام پاکستان سے پہلے مال روڈ ہر تعمیر ہونے والی جی پی او بلڈنگ اور اس کے قریب واقع عمارتوں سپریم کورٹ رجسٹری بلڈنگ ، ہائی کورٹ پارکنگ/ایوان اوقاف اور سینٹ اینڈ ریوز چرچ جیسی تاریخی عمارات کے تحفظ کے لئے اس علاقے میں میٹرو ٹرین کا 1.7کلومیٹر ٹریک زیر زمین تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے اس حصے کی تعمیراتی لاگت دو گنی سے بھی زیادہ ہوکر 7.7ارب روپے ہوگئی ہے۔ ٹرین کا ٹریک ان عمارتوں سے مزید دور کرنے سے بڑی تعداد میں شہریوں کے مکانات اورکاروبار بھی متاثر ہوتے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…