بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

سانحہ چارسدہ‘حملہ آورخودکش جیکٹس کے بغیر تھے

datetime 22  جنوری‬‮  2016 |

پشاور(نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے خود کش جیکٹس نہیں پہن رکھی تھیں اور صوبے میں ہونے والے گذشتہ حملوں کے برعکس یہ واحد واقعہ معلوم ہوتا ہے، جب دہشت گرد خود کش جیکٹس کے بغیر تھے۔سیکیورٹی عہدیداران کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے جاننے میں تجسس رکھتے ہیں کہ دہشت گردوں نے یونیورسٹی پر حملے کے وقت خود کش جیکٹس کیوں نہیں پہنیں۔ایک سینیئر سیکیورٹی عہدیدار نے ڈان کو فون پر بتایا کہ کسی حملہ آور نے خودکش جیکٹ نہیں پہنی تھی اور نہ ہی ان کے پاس کھانے کا سامان اور پانی کی بوتلیں تھیں۔مذکورہ عہدیدار نے بتایا، ‘حملہ آوروں کے پاس ٹافیاں یا بسکٹس بھی نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کا طلبہ اور اسٹاف کو یرغمال بنا کر دیر تک لڑنے کاارادہ نہیں تھا، جبکہ ماضی کے دہشت گردی کے حملوں کے برعکس حملہ آور بھاری ہتھیاروں سے بھی مسلح نہیں تھے۔ ا±ن کے پاس صرف اے کے 47 رائفلز اور صرف 8 دستی بم تھے۔عہدیدار کے مطابق چاروں حملہ آوروں کے پاس اضافی گولیوں کے صرف 2 میگزین تھے،جبکہ ہلکے ہتھاروں کا استعمال اس سے پہلے کسی دہشت گردی کے حملے کے دوران نہیں ہوا۔ایک اور سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق خود کش جیکٹس اوربھاری ہتھیاروں کی غیر موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد حملے کے بعد فرار ہونے کا پروگرام رکھتے تھے، لیکن یونیورسٹی کے محافظوں اور پلوسا گاو¿ں کے لوگوں کی مزاحمت کی وجہ سے حملہ آوروں کامنصوبہ ناکام ہوگیا۔انھوں نے بتایا کہ پلوسا گاو¿ں کے لوگوں کو جو کچھ بھی ملا وہ اسے اٹھا کر یونیورسٹی کے دفاع کے لیے آگئے، اس طرح کا ردعمل پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔مذکورہ عہدیدار کے مطابق گاو¿ں کے لوگوں کے بڑی تعداد میں یونیورسٹی کے باہر جمع ہونے سے دہشت گردوں کے فرار ہونے کا منصوبہ بھی ناکام ہوگیا۔ان کا کہنا تھا کہ گاو¿ں میں سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے اور حملے کے بعد گاو¿ں میں واپس جانا خود کو موت کے منہ میں ڈالنے کے مترادف ہوتا، یہی وجہ ہے کہ حملہ آوروں نے وہیں رہنے اور لڑائی میں مارے جانے کو ترجیح دی۔مذکورہ عہدیدار کے مطابق گاو¿ں کے لوگوں کا یونیورسٹی کے طلبہ کی مدد کو آنا ایک مثبت اشارہ ہے اور اگر یہی واقعہ کسی بڑے شہر میں ہوا ہوتا تو دہشت گرد فرار ہوسکتے تھے.سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق حملہ آور مناسب تربیت یافتہ بھی نہیں تھے جو اپنے منصوبے پر مکمل عمل درآمد کرسکتے، یہی وجہ ہے کہ حملے میں جانی نقصان کم ہوا۔انھوں نے بتایا کہ حملہ آور صبح پونے 8 بجے کے قریب یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور آدھے گھنٹے کے اندر وہ یونیورسٹی کی حدود میں ایک بڑا نقصان کرسکتے تھے.مذکورہ عہدیدار کے مطابق حملہ آور کنفیوڑ اور مکمل طور پر تربیت یافتہ نہیں تھے اور نہ ہی انھوں نے اپنے ہدف کی احتیاط سے جاسوسی کی تھی.ان کا کہنا تھا کہ بظاہر لگتا ہے کہ حملہ آور صرف یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ اب بھی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے قابل ہیں۔سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ حملہ آوروں کے پاس 2 موبائل فونز کے ساتھ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھے گئے 2 فون نمبرز بھی ملے، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ نمبر مقامی تھے یا غیر ملکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…