جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف کاافغان صدراوراتحادی کمانڈرکوٹیلی فون

datetime 21  جنوری‬‮  2016 |

راولپنڈی(نیوزڈیسک)آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی ٗ چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ اور اتحادی افواج کے کمانڈر کو ٹیلیفون کر کے چار سدہ حملہ کی تفصیلات کا تبادلہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ کو افغانستان سے کنٹرول کیا گیا ٗ حملہ آوروں کے پاس افغان سمیں موجود تھیں ٗ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے تعاون کیا جائے ۔جمعرات کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ کو افغانستان سے کنٹرول کیا جارہا تھا اپنے بیان میں پاک فوج کے ترجمان نے کہاکہ چار سدہ میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے کی تحقیقات اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا ایک فرد افغان موبائل فون کے ذریعے حملے کو افغانستان کے ایک مقام سے کنٹرول کر رہا تھا ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی ٗ چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اوراتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل کو ٹیلیفون کیا اور ان کے ساتھ چار سدہ حملہ سے متعلق معلومات اور تفصیلات کا تبادلہ کیا ۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان رہنماؤں اور اتحادی افواج کے کمانڈر سے ٹیلیفونک گفتگو کے دور ان حملے کے ذمہ داروں کو تلاش کر نے اور اس بہیمانہ اقدام کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے تعاون کیلئے کہا ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز چار سدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر دہشتگردانہ حملے میں 20افراد شہید اور گیارہ زخمی ہوئے تھے سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں چار حملہ آور مارے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…