جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اوپن یونیورسٹی نے کم آمدنی والے طلبہ کے لئے فیس انسٹالمنٹ اسکیم متعارف کردی

datetime 19  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا قیام ملک سے ناخواندگی کے خاتمے اور کم آمدنی والے طبقات تک تعلیم و تربیت کی اعلیٰ سطحی سہولتیں ان کی رہائش گاہوں کے قریب فراہم کرنے کے لئے عمل میں لایا گیا تھا۔ یونیورسٹی کم وسائل رکھنے والے شہریوں کے بچوں کو داخلہ فیس کی ادائیگی میں سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی نے فیس انسٹالمنٹ اسکیم متعارف کردی ہے ٗ اس اسکیم سے وہ طلبہ و طالبات جو یکمشت کسی سمسٹر کی فیس ادا نہیں کرسکتے ٗ ان کی سہولت کے لیے آسان اقساط میں فیس وصولی کی اسکیم جاری کی گئی ہے”ان خیالات کا اظہار یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے سمسٹر بہار 2016ء کے داخلوں کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے مالی معاونت اسکیم کے تحت یونیورسٹی کم آمدنی والے طلبہ و طالبات اور مستحق طلبہ کو ان کے پروگرام کی ٹیوشن فیس میں تین سمسٹر تک یا پورے تعلیمی پروگرام میں پچاس فیصد تک رعایت بھی فراہم کرتی ہے۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ قدرتی آفات)زلزلہ ٗ سیلاب وغیرہ(سے متاثرہ علاقوں میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی مالی معاونت کے لئے سکالرشپ فار کمیونٹیز کے نام سے بھی ایک سکیم متعارف کی گئی ہے ٗ جس کے تحت متاثرہ علاقوں کے طلبہ کو ادا شدہ ٹیوشن فیس کا پچاس فیصد سے لے کر صد فیصد تک سکالر شپ فراہم کیا جاتا ہے۔ وائس چانسلر نے شعبہ داخلہ کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی ہے کہ یکم فروری سے شروع ہونے والے سمسٹر بہار 2016ء کے داخلوں کے لئے طلبہ کو ہر سطح کی سہولتیں ان کی رہائش گاہوں کے نزدیک ترین مقامات پر مہیا کریں۔ ڈائریکٹر شعبہ داخلہ ٗ سید ضیاء الحسنین نے ان اسکیموں سے مستفید ہونے کے لئے ملک بھر میں موجود مستحق طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ یونیورسٹی کے نزدیک ترین علاقائی دفاتر سے رابطہ کریں۔ انہوں نے نے وائس چانسلر کو یقین دہانی کرائی کہ سمسٹر بہار 2016ء کے میٹرک سے پی ایچ ڈی سطح تک کے مختلف پروگرامز کے داخلے جو یکم فروری سے ملک بھر میں ایک ساتھ شروع ہورہے ہیں ٗ کے داخلہ فارم اورپراسپکٹس کی فراہمی کے لئے یونیورسٹی کے مین کیمپس ٗ ملک بھر میں موجود تمام علاقائی دفاتر/رابطہ دفاتر میں سیل پوائنٹس قائم کئے جائیں گے اور علاقائی دفاتر میں داخلوں کے بارے میں طلبہ و طالبات کی رہنمائی کے لئے خصوصی ونڈوز بھی قائم کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…