جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

عمران فاروق قتل کیس،ملزم معظم علی 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

datetime 18  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیو زڈیسک) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمران فاروق قتل کیس میں ملزم معظم علی کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سید کوثر عباس زیدی نے سوموار کے روز عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران معظم علی کے وکلاء منصور آفریدی اور شاہد کمال نے عدالت میں پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ قتل کا واقعہ 16 دسمبر 2010ء میں ہوا لیکن مقدمہ پانچ سال بعد 2015ء میں درج ہوا۔ معظم علی کا ایک ماہ سے زائد جسمانی ریمانڈ مکمل ہو چکا ہے واقعہ میں اس کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں مل سکے۔ گرفتاری سے قبل دو ماہ 26 روز تک ایف آئی اے نے معظم علی کو اپنی تحویل میں رکھا۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ پانچ سال کے بعد بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ قتل لندن میں ہوا ہے لیکن مقدمہ اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے۔ یہ تمام کارروائی غیر قانونی ہے اور سمجھ سے بالا تر ہے۔ ایف آئی اے عدالت سے آخر کیا کروانا چاہتی ہے۔ عمران فاروق ایک عدالتی مفرور اور کئی بے گناہ لوگوں کا قاتل تھا اس کے مرنے سے امن ہوا ہے دہشت گرد کے مرنے پر دہشتگردی کا مقدمہ درج نہیں ہو سکتا۔ کیس میں عدالت اور تفتیشی اداروں کو فریق نہیں بننا چاہئے۔ ابھی تک جے آئی ٹی کی کوئی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں ہوئی لہذا عدالت کے تقدس کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ کو حاضر ناضر جان کر فیصلہ صادر کرے۔ملزم کا بلا جواز ریمانڈ پر ریمانڈ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ کوئی فیصلہ کرنے سے قبل عدالت یہ دیکھے کہ کون متاثرہ فریق ہے۔ عمران فاروق قتل کیس کا پاکستان میں خلاف قانون مقدمہ پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے معظم علی کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…