اسلام آباد(نیوزڈیسک)بدل رہا ہے پاکستان؟ یوٹیوب کوخفت کاسامنا،سالہا سال بند رہنے کے بعد اردو ورژن کے آغاز کے باوجود پاکستان یو ٹیوب کھولنے پرتیار نظر نہیں آرہا۔تفصیلات کے مطابق ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب کے اردو ورژن کے آغاز کے باوجود پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین کو اب بھی یوٹیوب ڈاٹ پی کے تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی ¾ یہ ڈومین صرف پاکستان کے لیے مخصوص ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نجی ٹی وی کو بتایا کہ یوٹیوب کی بحالی کے حوالے سے صرف سپریم کورٹ ہی فیصلہ کرسکتی ہے اور عدالت نے تمام فریقین سے 15 روز میں جواب طلب کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ جب تک مذکورہ معاملہ عدالت میں زیرِسماعت ہے ریگولیٹر کے طور پر پی ٹی اے کو اس معاملے پر سرکاری سطح پر بیان دینے کی اجازت نہیں ہے۔پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل نثار احمد نے عدالت کو بتایا تھا کہ ویڈیو شیئرنگ سائٹ پر قابل اعتراض مواد تک رسائی کو روکنا اب ممکن ہے، جو اب تک سائٹ کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ لیکن اس حوالے سے عدالتی حکم کی عدم موجودگی کی وجہ سے یوٹیوب ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے تک رسائی ممکن نہیں۔ا±دھر گوگل کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ یوٹیوب ہوم پیج وزٹ کرنے والے پاکستانی صارفین اب سے یوٹیوب سائٹ اردو میں دیکھ سکیں گے اور پلے لسٹ میں پاکستان میں موجود رجحانات کے ساتھ ساتھ مقبول ویڈیوز بھی موجود ہوں گی، جبکہ ناظرین اب زیادہ آسانی سے ان کے اپنے ملک میں مقبول مواد اور زیادہ سے زیادہ متعلقہ مقامی مواد کو تلاش کرسکتے ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ متنازع ویڈیوز کو سائٹ سے ہٹانے کے حوالے سے گوگل کن پیرامیٹرز کا خیال رکھے گا ترجمان نے بتایا کہ جب ہم نے مقامی طور پر یوٹیوب کا آغازکیا تو ہمیں بتادیا گیا تھا کہ جو ویڈیو اس ملک میں غیر قانونی ہوگی ہم اس کا ایک مکمل جائزہ لینے کے بعد اس تک رسائی کو محدود کرسکتے ہیں۔ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے کسی بھی مواد کو ہٹانے کی درخواست کو گوگل نے قبول نہیں کیا اور گوگل کی جانب سے 2015 میں ریاستی حکام کے ساتھ کم از کم ایک صارف کا ڈیٹا شیئر کیا گیا۔2012 سے پاکستان میں یوٹیوب کی بندش کے بعد سے ڈیجیٹل حقوق کے کارکن اس کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں، تاہم بہت سے گروپس نے گوگل کی جانب سے مقامی ڈومین متعارف کروانے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور اس اقدام کے حوالے سے ہونے والے معاہدے میں شفافیت نہ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ بظاہر یوٹیوب کی بحالی کے حوالے سے گوگل اور پی ٹی اے کے درمیان ہونے والے معاہدے کی شرائط کو واضح طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
جمائمہ کے ’دوسرے شوہر کیمرون ‘کون ہیں؟ دونوں کی ملاقات کیسےہوئی؟ اہم تفصیلات منظرعام پر
-
چودھری پرویز الہٰی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں پر بول پڑے
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
مئی میں موسم کیسا رہے گا؟محکمہ موسمیات کا نیا الرٹ جاری



















































