جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ایمنسٹی سکیم،بااثر سیاسی و کاروباری افراد کو احتساب سے بچانے کا فارمولا

datetime 4  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)حکومت نے احتساب کے عمل سبوتاڑ کرنے اور کرپشن و غیر قانونی طریقے سے کمائی گئی دولت کو قانونی حیثیت دینے کیلئے تاجر برادری کی آڑ میں ایمنسٹی سکیم متعارف کروا رہی ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں احتساب عمل میںتیزی کی وجہ سے بااثر سیاسی و کاروباری افراد پر احتساب کے خوف کے بادل منڈلا رہے تھے۔ جس پر حکومت نے من پسند افراد کو احتساب سے بچانے کیلئے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق ایمنسٹی سکیم دراصل کالا دھن رکھنے والوں کیلئے ایک محفوظ راستہ مہیا کیا گیا ہے اور بلیک منی کو وائٹ منی بنانے کا سرٹیفکیٹ دیا جارہا ہے۔ ایمنسٹی سکیم کے ذریعے دولت ظاہر کرنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے انکوائری و کارروائی کے مجاز نہیں رہیں گے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ احتساب کا عمل صوبہ سندھ کے بعد صوبہ پنجاب میں بھی شروع ہوچکا ہے جس کے ردعمل میں حکومت نے احتساب کے عمل کو ثبوتاڑ کرنے کیلئے ایک قانون و آئینی راستے کے ذریعے کالا دھن رکھنے والوں کو سہارا دینے کا فیصلہ کیا ہے ان کے مطابق ایمنسٹی سکیم سے صرف ایک فیصد ٹیکس ادائیگی کے بعد پانچ کروڑ تک کی دولت کو قانونی قرار دیا جائے گا اور ذرائع آمدن کو تحقیقات سے استثنیٰ مل جائے گا۔ کرپشن و ناجائز طریقے سے حاصل کی جانے والی دولت مختلف رشتہ داروں اور بااعتماد رفقائ کے نام پر ظاہر کرکے سفید دھن کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلیں گے۔ اس سلسلے میں کرپشن اور غیر قانونی طریقے سے دولت کمانے والوں کے خلاف کارروائی ناممکن ہوجائے گی۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں احتساب سے بڑے مگر مچھ ہاتھ دالا گیا ہے اور احتساب کا دائرہ کار بڑھا کر پنجاب اور دوسرے صوبوں تک پھیلایا جارہا ہے جس سے مسلم لیگ (ن) کے اہم سیاسی افراد کے خلاف احتساب کیا جانا ہے اور حکومت نے ان کو بچانے کیلئے تاجروں کی آڑ میں ایمنسٹی سکیم کا اعلان کردیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے بعد کرپشن میں ملوث مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماوں کے خلاف احتساب کا عمل شروع کیا جارہا ہے۔ ایمنسٹی سکیم سے کرپشن و غیر قانونی دولت رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے والے اداروں کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں۔ کرپشن اور کالا دھن رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے والے اداروں پر سیاسی اثر و رسوخ ختم ہونے کی وجہ عسکری مداخلت ہے جس کے مطابق عسکری قیادت احتساب عمل شفاف طریقے سے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…