جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

پاکستان پر واجب الادا قرضوں کاتاریخی ریکارڈ قائم ہوگیا،2006ءسے 2015ءکے دوران اتنا اضافہ کہ سوچ کر بھی گھبراجائیں

datetime 30  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان کا قرضہ 65.5 ارب ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سال 2006 سے سال 2015 کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 75 فیصد اضافہ ہو گیا ہے جبکہ گزشتہ اڑھائی سال میں 27 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کئے گئے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں بیرونی قرضہ حاصل کرنے میں موجودہ حکومت سبقت لے گئی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی بیرونی قرضہ کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ 2020 میں 90 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی طرح پاکستان کی بیرونی قرضوں پر سود کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت کو قرضوں کی واپسی کیلئے روڈ میپ کا فقدان ہے۔ حکومتی دعوے کے مطابق پاکستان کی زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بیرونی قرضے ملنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ پاکستان کی برا?مدات میں 200 فیصد کمی کے بعد تجارتی خسارہ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق ہر پاکستانی پر ایک لاکھ روپے کا قرضہ ہے۔ بیرون قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی کیلئے 20 ارب روپے سالانہ ضرورت ہوں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت قرضوں اور سود کی ادائیگی کا متحمل نہیں ہے اس حوالے سے حکومت کو مزید ا?ئی ایم ایف سے ایک نیا پروگرام شروع کرنا ہو گا۔ ورلڈ بنک اور ا?ئی ایم ایف سے ہاصل کئے گئے قرضوں کی واپسی 2017 میں شروع ہو جائے گی اور ایکسٹنڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت ا?خری قسط 502 ملین ڈالر کی منظوری ہو گئی ہے اور حکومت ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور قرضوں کی واپسی کیلئے جنوری 2016 میں ا?ئی ایم ایف سے ایک نیا پروگرام حاصل کرنے کیلئے مذاکرات کرنے جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینٹ میں بھی مزید بیرونی قرضہ حاصل کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں ان کے مطابق پاکستان کا مالی خسارہ کو پورا کرنے کیلئے مزید قرضے لئے جائیں گے۔ اسی طرح سال 2015 کو پاکستان کیلئے قرضوں کا سال ثابت ہوا ہے اور سال 2016 میں مزید قرضے حاصل کرنے امکان ہے



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…