کوئٹو(ویب ڈیسک) ایکواڈور کے جنگلات میں پائے جانے والے درخت ’سوکریٹا ایکزورہیزا‘ کو دنیا کا پہلا متحرک درخت قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ موسم بدلتے ہی یہ سورج کی جانب بڑھتا ہے اور اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے۔اگرچہ یہ درخت روزانہ 2 سے 3 سینٹی میٹر تک کھسکتے ہیں لیکن ایک سال میں اپنی جگہ سے 20 فٹ تک ہٹ سکتے ہیں جسے درختوں کی میراتھن کہا جاسکتا ہے۔ اس کی جڑیں درخت کے لیے پیروں کا کام کرتی ہیں اور وہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ سورج کی روشنی کی جانب بڑھنے کے لیے درخت آگے کی جانب بڑھنے کے لیے نئی جڑیں اگاتا ہے اور پرانی جڑیں خشک ہوکر ختم ہوجاتی ہیں اور اس طرح درخت آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اسی طرح اگر زمین کی زرخیزی ختم ہونے لگتی ہے تب بھی اس کی طویل جڑیں آگے بڑھ کر زمین سے جڑ کو خود کو مضبوط کرلیتی ہیں جب کہ ایسے درخت لاطینی امریکا کے دوسرے ممالک میں پائے جاتے ہیں۔
ایکواڈور کے جنگلات میں ”چلنے والے درخت“ دریافت
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا
-
امریکا اور ایران کے درمیان نئی تجاویز پر اتفاق ہوگیا، واشنگٹن ٹائمز
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































