جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وفاق نے کراچی آپریشن کے لئے کتنے فنڈزدیے؟

datetime 12  دسمبر‬‮  2015 |
HYDERABAD, PAKISTAN, FEB 15: Federal Minister for Law, Moula Bux Chandio gestures during press conference in Hyderabad on Wednesday, February 15, 2012. (Aftab Ahmed/PPI Images).

اسلام آباد(نیوزڈیسک) مشیراطلاعات سندھ مولابخش چانڈیو نے کہاہے کہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خا ن کی پریس کانفرنس کے جواب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ وفاق نے سندھ میں رینجرز کوآپریشن کے لئے ایک روپے کافنڈبھی نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ پیرتک رینجرز کی تعیناتی کافیصلہ کرلیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ کچھ لوگوں کومزے لینے کاشوق ہوتاہے ۔وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ حکومت سندھ اور متحدہ سمیت تمام سیاسی جماعتیں کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کو دہشتگرد ی کے خاتمے تک جاری رکھنے کی حامی ہےں اور آئین کے آرٹیکل 147کے تحت سندھ اسمبلی سے توثیق کے علاوہ رینجرز کے اختیارات میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا جبکہ چند مفاد پرست اداروں کے درمیان ٹکراو¿ چاہتے ہیں کیونکہ وہ سندھ میں سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہیں اور انکا مفاد ہی حالات کو خراب کرنا ہے ۔ یہ بات انہوں نے بلاول ولاز قاسم آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق رینجرز کو دےے گئے اختیارات کے مدت میں اضافے کیلئے صوبائی اسمبلی سے توثیق کرانا ضروری ہے تاکہ آپریشن نتیجہ خیز ثابت ہو اور اس میں کسی بھی قسم کی قانونی رکاوٹ پیش نہ آئے ۔ انہوں نے تجزیہ نگاروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ بلا وجہ اپنی مرضی کے مطابق تجزےے پیش نہ کریں جس سے صورتحال خراب ہو کیونکہ کراچی میں جاری آپریشن ایک حساس مسئلہ ہے اور صوبے بھر میں صورتحال کو معمول پر لانا حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے ۔ پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کا بھی ایک سیاسی جماعت سے تعلق ہے اور یہ واضح ہے کہ وہ سیاسی امور پر اپنی جماعت کے مفادمیں بات کریں گے مگر انہیں چاہےے کہ وہ رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے بیان دینے کے دوران احتیاط کرےں کیونکہ یہ مسئلہ انتہائی حساس ہے ۔ پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پیر تک رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے فیصلہ کیا جائیگا اور پولیس اور رینجرز ملکر کراچی آپریشن کو کامیاب بنانے کیلئے کام کرینگے اور ایک مرتبہ پھر کراچی کو روشنیوں اور امن کا شہر بنایا جائیگا ۔ رینجرز کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کو چاہےے کہ وہ اپنے اختیارات کے مطابق کام کریں اور شروع میں کچھ ایسی کاروائیاں ہوئی تھیں تاہم حکومت سندھ کبھی بھی رینجرز اختیارات کے حوالے سے مخالفت نہیں کی ہے بلکہ ہمیشہ رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کاروائیوں پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کو رینجرز کی کارکردگی پر اعتماد ہے مگر کچھ لوگ باتیں الجھا رہے ہیں ۔ سندھ بھر میں رینجرز مقرر کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ میں اس وقت صورتحال قابو میں ہے تاہم رینجرز ضرورت کے مطابق دہشتگردوں کا تعاقب اور انکے خلاف کاروائی سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی کر سکتی ہے ۔ گنے کے کاشتکاروں کے احتجاج اور گنے کی نرخ مقرر کرنے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہے تاہم وہ اس مسئلے کے حل کیلئے کوشش کرینگے ۔ اس موقع پر صغٰیر احمد قریشی ،انجنیئر سکندر حیات خانزادہ اور عبد الرحمان جونیجو بھی موجود تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…