ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی تارکینِ وطن چھاگئے

datetime 10  دسمبر‬‮  2015 |

مکہ مکرمہ (نیوزڈیسک)سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی تارکینِ وطن کی تعداد اور وہاں مختلف پیشوں سے وابستہ نمایاں غیرملکیوں کے حوالے سے بالعموم غلط فہمی پائی جاتی ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس وقت وہاں فلپائنی اور بنگلہ دیشی کم اجرتوں پر کام کی وجہ سے چھائے ہوئے ہیں لیکن اعداد و شمار اس غلط تصور کی تردید کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی تارکین وطن کی دوسرے ممالک کے شہریوں کے مقابلے میں تعداد سب سے زیادہ ہے اور وہ مختلف شعبوں میں چھائے ہوئے ہیں۔عرب روزنامے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مقیم چھبیس ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کا قریبا نوّے پیشوں پر مکمل کنٹرول ہے۔یہ سروے سعودی میڈیکل سنٹر برائے مشاورت اور مطالعہ (ایس ایم سی) نے کیا ہے۔اس کے نتائج کے مطابق سعودی شہری اس فہرست میں سب سے آخر میں آتے ہیں اور وہ صرف نو پیشوں سے وابستہ ہیں۔سعودی شہری تدریس اور حفظ قرآن کے شعبے سے وابستہ ہیں۔وہ مساجد میں پیش امام ہیں،مو¿ذن ہیں،تجارتی بنکوں میں فرنٹ ڈیسک افسر کے طور پر کام کررہے ہیں۔سرکاری بسوں اور بھاری ٹرکوں کے ڈرائیور ہیں،تعلیمی اداروں کی بسیں چلاتے ہیں ،کاروں کی نیلامی کے ڈیلر ہیں اور سکیورٹی محافظ ہیں۔اس سروے کے نتائج کے مطابق نوممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کا نجی شعبے کی ستر فی صد ملازمتوں پر کنٹرول ہے۔ان ممالک میں پاکستان سرفہرست ہے۔اس کے بعد یمن ،مصر ،بھارت ،بنگلہ دیش ،اردن ،فلسطین ،سوڈان اور شام کا بالترتیب نمبر آتا ہے۔سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ،یمن ،مصر اور بھارت سے تعلق رکھنے والے تارکین کی بڑی اکثریت مزدور پیشہ ہے اور لیبر مارکیٹ میں ان ممالک کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔اس میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ سعودی ”بخاری رائس ریستورانوں” میں کھانے کے لیے جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔یہ ریستوراں ترکمانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن چلا رہے ہیں۔دوسری جانب یمنی ان مشہور ریستورانوں میں کام کرتے ہیں جہاں تلا ہو جگر فروخت کیا جاتا ہے اور سعودی اس کو ناشتے میں شوق سے کھاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…