اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

اسلام آباد کی نوے فیصد مساجد اور مدارس کیسے چلائے جارہے ہیں -حکومتی اثر و رسوخ و بجٹ کتناہے؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 8  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی تقریباً 90 فیصد مساجد ¾ اماموں یا علاقہ مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت چلائی جارہی ہیں ¾ جس کے باعث حکومت کا ا±ن پر کوئی اثر و رسوخ نہیں۔نیشنل ایکشن پلان کے تناظر میں وزارت داخلہ کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کی 957 مساجد میں سے 868 پر کوئی اثرو رسوخ نہیں رکھتی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومتی سرپرستی میں چلائی جانے والی 89 مساجد پر تنخواہوں کی مد میں سالانہ تقریباً 5 کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں ¾ یوٹیلیٹی بلوں اور دیگر اخراجات کی مد میں بھی ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم فراہم کی جاتی ہے تاہم رپورٹ میں علاقہ مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت چلائی جانے والی مساجد سے متعلق ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔وزارت داخلہ اور کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) حکام نے نجی ٹی وی عہ بتایا کہ نجی طور پر چلائی جانے والی مساجد کا بجٹ سرکاری مساجد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ وہاں نماز کے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں۔حکومتی سرپرستی میں چلائی جانے والی مساجد میں اوسطاً ایک ہزار 500 افراد کی ایک وقت میں جمع ہونے کی گنجائش ہے جس میں فیصل مسجد اور لال مسجد شامل نہیں۔سی ڈی اے کے سینئر حکام کے مطابق نجی سطح پر چلائی جانے والی مساجد کی تعداد میں جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں اضافہ ہوا جس کے بعد ان کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔وزارت داخلہ کے حکام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان مساجد کو اپنے نظم و ضبط کے اندر لانا حکومت کے لیے ایک مشکل کام ہے، تاہم انہیں مکمل آزادی بھی نہیں دی جاسکتی۔حکام کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ان مساجد کی کڑی نگرانی کرے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی کئی مساجد اور امام بارگاہوں پر نفرت انگیز تقاریر کی نگرانی کےلئے پولیس کے 722 اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…