ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

جھگڑا کس کا اور نشانہ کون ، ڈاکٹر عاصم نے سب کچھ سے پردہ اٹھا دیا

datetime 7  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)ڈاکٹرعاصم نے خود پر لگائے گئے الزامات مستر د کردیے۔ڈاکٹر عاصم نے پولیس کی ریمانڈرپورٹ میں لگائے الزامات سے انکارکردیا۔عدالت نے سابق مشیر پٹرولیم کے ریمانڈ میں پانچ روز کی توسیع کر دی۔ڈاکٹر عاصم نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ جھگڑا کسی اور سے ہے اور گھسیٹا مجھے جارہاہے ، ایک ایم ایس کے بیان پر مجھ پر اتنا بڑا الزام لگایا جارہاہے ، کبھی مجھ پر تشدد کیا جاتا ہے تاکہ میں طوطے کی طرح بولوں ، کبھی لولی پاپ دیاجاتاہے ، مجھے انکاوئنٹر کرکے ماردیا جائے ، مگر اس طرح سلوک نہ کیا جائے۔ڈاکٹر عاصم حسین کو انسداد دہشتگردی عدالتوں کے منتظم جج جسٹس نعمت اللہ پھپلھوٹو کے روبرو پیش کیا گیا،ڈاکٹر عاصم حسین نے عدالت میں اپنا تفصیلی بیان دیا۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا جاتا ہے تاکہ جویہ چاہتے ہیں لکھ دوں۔سچ بات کروں گااگر میں مرگیا تو الزام اس نظام پرہوگا۔انہوں نے عدالت میں کہا کہ میرااللہ محافظ ہے،میں مظلوم ہوں،نیب نے اپنی تفتیش مکمل کرلی ہے۔آپ انصاف کی کرسی پرہیں میرے ساتھ انصاف کریں۔رینجرزاور پولیس اہلکار مجھے ہتھکڑی لگاکر اسپتال لے گئے تھے،دوران تفتیش میں نے رینجرز سے بھرپور تعاون کیاہے،رینجرزنے حراست میں لیا،جھوٹے شواہد دیے جارہے ہیں۔تمام شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج رینجرز کے پاس ہیں،مجھے رینجرزکی تحویل میں نہ دیاجائے،میں نے اپنے اسپتال میں کسی چیزکی نشاندہی نہیں کی،مجھے ایک ایم ایس کے بیان پر پھنسایا جارہا ہے۔تفتیشی افسر کی جانب سے مزید پانچ روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر عدالت نے استدعا قبول کرتے ہوئے تفتیشی افسرکو آیندہ سماعت پرتفتیش میں پیشرفت سے ا?گاہ کرنے کاحکم دیا۔پولیس ڈاکٹرعاصم حسین کو لے کر عدالت سے روانہ ہو گئی۔ڈاکٹرعاصم حسین کی بیٹی نے عدالت میں بیان حلفی جمع کرادیا۔ ان کی بیٹی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرعاصم بظاہرپولیس لیکن حقیقت میں کسی اورکی تحویل میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…