جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ملٹری پولیس پر دہشتگرد حملے نے پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی

datetime 2  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) رینجرز کے بعد کراچی میں ملٹری پولیس کے اہلکاروں پر دہشت گردانہ حملے نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ وزیرداخلہ چوہدری نثا ر علی خان نے بدھ کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے قوم کواعتماد دیا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ منطقی انجام کو پہنچے گی اور دہشت گرد جس کو نے کھدرے میں چھپے ہوں گے ان کا پیچھا کریں گے اور ان کا قلع قمع کریں گے۔ وزیرداخلہ حالیہ دنوں میں کراچی آپریشن میں تیزی کا عندیہ دے چکے ہیں۔ جس کے بعد رینجرز اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں ،سرپرستوں ،ہمدردوں اور معاونین کی گردن زدنی کےلئے جو اقدامات کئے اس سے نظر آتا تھاکہ دہشت گرد جو بہت زیادہ فرسٹریشن کا شکار ہیں اورخاص طور پر ان کے ذرائع آمدن پر قدغن لگنے سے انہیں شدید دباﺅ کا سامنا ہے۔ وہ کسی بھی مزاحمتی ردعمل کااظہار کرسکتے ہیں۔جنگ رپورٹر طاہر خلیل کے مطابق ۔ وزیرداخلہ نے درست تجزیہ کیا کہ اب ماضی کے وہ حالات نہیں رہے کہ دہشت گرد جب چاہتے اور جہاں چاہتے ہیں اپنی مرضی کا محاذ کھول دیتے۔ ایسے میں مایوسی اور گھبراہٹ میں شدت پسند سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔ جس کےلئے انہیں بھارتی ایجنسی را کی مکمل اعانت حاصل ہے۔ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس در حقیقت قوم کےلئے ویک اپ کال سےکم نہیں کہ بزدل دشمن جو اہل پاکستان کے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو متزلزل کرنا چاہتا ہے لیکن سول و عسکری قیادت پہلے سے دلجمعی اور اتحاد کے ساتھ دہشت گردی کو بیخ و بن سے اکھاڑنے پرکمربستہ ہے۔کراچی میں رینجرز اورملٹری پولیس پر حملوں کے تناظر میں چوہدری نثار علی خان درست کہتے ہیں کہ آج ملک وقوم کی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں یہ جنگ کسی ایک طبقے،گروہ، یا مذہبی و لسانی جماعت کی نہیں، پاکستان اور اس میں بسنے والے باشندوں کی بقا کی جنگ ہے۔ اسے کامیابی سے ہم کنار کروانا ہر شہری کا فرض ہے۔ داخلی سلامتی کو مستحکم بنانے کےلئے وزیرداخلہ نے نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں قوم کو جو تزویراتی لائحہ عمل دیا اس پرعمل درا?مد کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اب وزیر کا ہدف قومی خود مختاری کی بحالی کی جانب ہے جس کےلئے انہوں نے کسی کی پرواہ کئے بغیر بیرونی ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کی جبری بے دخلی(ڈی پورٹیشن)، انٹرنیشنل این جی اوز کے شتربے مہار گھوڑے کو لگام دینے اور دینی مدارس کے نظام کو قومی دھارے میں لانے کے دلیرانہ اقدامات کو آگے بڑھانے کا تہیہ کررکھا ہے۔ وزیرداخلہ دوہفتے قبل یورپی یونین کے کمشنر کو بھی دوٹوک انداز میں واضح کرچکے ہیں کہ تصدیق کے بغیر کسی ڈی پورٹی کو قبول نہیں کریں گے۔ یہ امر لائق تحسین ہے کہ وزیرداخلہ نے بیرون ملک پاکستانیوں کے عزوشرف کو محفوظ رکھنے اور ان کے باوقار مقام کی بحالی کےلئے درست قدم اٹھایا۔یہی وجہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیز بھی انہیں دل سے محترم سمجھتے ہیں جس کا ایک غیرمعمولی اظہار اس وقت دیکھنے میں آیا تھا جب وزیراعظم محمد نواز شریف کے حالیہ دورہ امریکا میں پاکستانی کمیونٹی کے اجتماع میں چوہدری نثار علی خان کی موجودگی کے اعلان پر تمام پاکستانی کھڑے ہوکر دیر تک تالیاں بجاتے رہے اور شاید یہ سلسلہ نہ رکتا اگرچوہدری صاحب خود اسے نہ روکتے، وطن کی محبت سے سرشاری کا یہ ایک عظیم الشان اظہار تھا جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کے ذریعے قومی سلامتی کے امور پر جس عزم و حوصلے کااظہار کیا قوم کےلئے ولولہ تازہ کی نوید ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…