اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی چھ ادویات کے 11 بیچز کو جعلی یا غیر معیاری قرار دیتے ہوئے عوام اور متعلقہ اداروں کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کا استعمال انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ڈریپ کے مطابق سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں ادویات کے نمونوں کی جانچ کے دوران چھ نمونے جعلی پائے گئے، جبکہ بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کے علاج میں استعمال ہونے والی چار ادویات معیار پر پورا نہ اتر سکیں۔ اس کے علاوہ اسٹرائل واٹر کا ایک غیر معیاری بیچ بھی سامنے آیا ہے۔جاری کردہ الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایکسوران 500 ملی گرام اور ایک گرام انجکشن کے دو بیچز جعلی قرار دیے گئے ہیں۔ اسی طرح ایگزٹ 500 ملی گرام اور ایک گرام انجکشن کے چھ بیچز بھی جانچ کے دوران جعلی ثابت ہوئے۔ درد اور سوزش کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بریکسن ٹیبلٹ کا بیچ نمبر W68C بھی جعلی قرار دیا گیا ہے۔
یہ گولیاں ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی جی ایس کے کے نام سے تیار کی گئی تھیں۔اتھارٹی کے مطابق مذکورہ جعلی اور غیر معیاری ادویات کراچی میں قائم سٹی فارما لیبارٹریز سے تیار کی گئی ہیں۔ ڈریپ نے واضح کیا ہے کہ ان مصنوعات کا استعمال مریضوں کے لیے سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ڈریپ نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ مذکورہ ادویات کو مارکیٹوں سے فوری طور پر ہٹا کر ضبط کیا جائے، تاکہ شہریوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔ عوام کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ادویات سے متعلق سرکاری الرٹس پر نظر رکھیں اور کسی دوا کے مشتبہ ہونے کی صورت میں استعمال جاری رکھنے کے بجائے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے رہنمائی حاصل کریں۔



















































