کراچی(این این آئی) دالیں پاکستانی کھانوں کا لازمی حصہ ہیں اور پروٹین، فائبر، آئرن، پوٹاشیم سمیت متعدد اہم غذائی اجزا فراہم کرتی ہیں۔
تاہم، بعض افراد کو رات کے کھانے میں مخصوص دالیں استعمال کرنے سے گیس، پیٹ پھولنے اور بدہضمی کی شکایت ہوسکتی ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق دال کا انتخاب کرتے وقت اپنی ہاضمے کی کیفیت، کھانے کی مقدار اور پکانے کے طریقے کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔اْڑد کی دال پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے، لیکن بعض افراد کے لیے اسے ہضم کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ خصوصاً زیادہ مقدار میں یا گاڑھی دال کھانے سے پیٹ میں گیس، اپھارہ اور بھاری پن محسوس ہوسکتا ہے۔ جن لوگوں کو پہلے ہی بدہضمی کی شکایت رہتی ہے، انہیں اس دال کا استعمال محدود مقدار میں کرنا چاہیے۔چنے کی دال بھی پروٹین اور فائبر کا اچھا ذریعہ ہے، تاہم اس میں موجود بعض اجزا آنتوں میں گیس بننے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر رات کو چنے کی دال کھانے کے بعد پیٹ پھولنے یا درد کی شکایت ہو تو اس کی مقدار کم رکھنا مفید ہوسکتا ہے۔ دال کو پکانے سے پہلے پانی میں بھگونا اور اچھی طرح گلانا بھی ہاضمے میں مدد دے سکتا ہے۔اسی طرح ثابت چنے، لوبیا اور ثابت سبز مونگ بھی بعض افراد میں گیس پیدا کرسکتے ہیں، تاہم ان غذاؤں کو ہر شخص کے لیے نقصان دہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ہر فرد کا نظامِ ہاضمہ مختلف ہوتا ہے، اس لیے غذا کے انتخاب میں انفرادی برداشت اہمیت رکھتی ہے۔مونگ کی دال کو عموماً نسبتاً ہلکی غذا سمجھا جاتا ہے۔ اسے اچھی طرح پکا کر مناسب مقدار میں کھانے سے ان افراد کو فائدہ ہوسکتا ہے جنہیں دوسری دالوں سے گیس کی شکایت رہتی ہے۔ مسور کی دال بھی پروٹین اور فائبر فراہم کرتی ہے اور اسے اچھی طرح پکا کر رات کے کھانے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ارہر یا تور کی دال بھی رات کے کھانے کا حصہ بن سکتی ہے۔ اسے پتلا پکا کر اور مصالحوں کی مناسب مقدار استعمال کرکے کھانا بہتر رہتا ہے۔ اگر کسی دال سے تکلیف نہیں ہوتی تو محض رات کے وقت ہونے کی وجہ سے اسے ترک کرنے کی ضرورت نہیں۔دال کو پکانے سے پہلے کچھ دیر پانی میں بھگونے اور اچھی طرح گلانے سے اسے نرم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ زیرہ، اجوائن یا ہینگ بعض افراد کو گیس کی شکایت میں آرام دے سکتے ہیں، تاہم ان کا اثر ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتا۔ اسی طرح زیادہ تیل، گھی اور مرچ مصالحوں کا استعمال بعض افراد میں بدہضمی اور سینے کی جلن بڑھا سکتا ہے۔
رات کا کھانا سونے سے تقریباً دو سے تین گھنٹے پہلے کھانا بہتر ہے، بالخصوص ان افراد کے لیے جنہیں تیزابیت یا سینے میں جلن کی شکایت رہتی ہے۔ کھانے کے بعد 10 سے 15 منٹ کی ہلکی چہل قدمی بھی مفید ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ غذا آہستہ آہستہ چبا کر کھانے اور ضرورت سے زیادہ مقدار سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی جاتی ہے۔دالیں متوازن غذا کا اہم حصہ ہیں اور انہیں رات کے کھانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، اگر گیس، پیٹ میں درد یا بدہضمی مسلسل برقرار رہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ کسی ایک دال کو سب کے لیے نقصان دہ سمجھنے کے بجائے مناسب مقدار، درست طریق? تیاری اور جسم پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھنا زیادہ ضروری ہے۔



















































