اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے ملک میں ماحول دوست سفری ذرائع کو فروغ دینے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر مالی معاونت فراہم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
نئی انرجی وہیکلز پالیسی 2025-2030 کے تحت الیکٹرک موٹر سائیکل خریدنے والوں کو 80 ہزار روپے جبکہ الیکٹرک رکشہ سمیت تین پہیوں والی گاڑیوں کی خریداری پر 4 لاکھ روپے سبسڈی دینے کی تجویز زیر غور ہے۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت صنعت و پیداوار اور توانائی کے شعبے سے متعلق فراہم کردہ معلومات میں بتایا گیا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے اور شہریوں کو پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے متبادل فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔مجوزہ منصوبے کے مطابق الیکٹرک موٹر سائیکل کی خریداری پر 80 ہزار روپے اور تین پہیوں والی الیکٹرک گاڑی کے لیے 4 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ اس اقدام کا مقصد ماحول دوست سواریوں کو عام کرنا اور شہریوں کو روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
تاہم، یہ سبسڈی ابھی تجویز کے مرحلے میں ہے۔ اس لیے درخواستوں کے آغاز، شرائط، اہلیت اور حتمی منظوری سے متعلق تفصیلات سامنے آنے تک شہریوں کو سرکاری اعلان کا انتظار کرنا ہوگا۔حکومتی منصوبے میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع بھی شامل ہے۔ پالیسی کے تحت 2030 تک ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار عوامی چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں موٹرویز اور قومی شاہراہ این-5 کے منتخب مقامات پر 40 فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ موجودہ پیٹرول پمپس پر الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ کی سہولتیں متعارف کرانے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاکہ ان گاڑیوں کے مالکان کو طویل سفر کے دوران بیٹری چارج کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔پالیسی میں مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے الیکٹرک موٹرز، بیٹری پیکس، چارجرز اور دیگر ضروری پرزہ جات کی ملکی سطح پر پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، جس سے درآمدات پر انحصار کم کرنے، جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور مستقبل میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔مزید برآں، الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کے لیے سہل شرائط پر قرضوں اور دیگر مالی سہولتوں کی فراہمی بھی زیر غور ہے۔ استعمال شدہ بیٹریوں کی محفوظ ری سائیکلنگ اور ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر ان کی تلفی کے لیے مناسب نظام تشکیل دینا بھی مجوزہ پالیسی کا حصہ ہے۔



















































