اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

datetime 4  اکتوبر‬‮  2026

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر +92 332 5362221 پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 0310 5366774 موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)
بلوچستان کا تیسرا بڑا مسئلہ اس کے سردار ہیں‘ بلوچستان میں اس وقت ستر سے اسی بڑے سردار ہیں‘ ان میں بگٹی‘ مری اور مینگل زیادہ مضبوط ہیں‘

اورنگزیب عالمگیر کے دور میں مغلوں نے سرداروں کو سالانہ وظیفہ دے کر دہلی کے تخت کا وفادار بنا لیا تھا‘ مغلوںکا اقتدار کم زور ہوا تو یہ احمد شاہ ابدالی کے سائے میں چلے گئے‘ احمد شاہ ابدالی ماڈرن افغانستان کا بانی تھا‘ لفظ افغانستان بھی ابدالی نے ایجاد کیا تھا‘ اس نے اپنی پشت محفوظ رکھنے کے لیے بلوچ سرداروں کے ساتھ اتحاد کر لیا‘ وہ ان کی اور یہ اس کی حفاظت کرتے رہے‘ انگریز آیا تو اس نے سسٹم کو زیادہ بہتر اور آسان بنا دیا‘ اس نے موجودہ بلوچستان میں بلوچ اور پشتونوں کے درمیان نفرت کو ہوا دی‘ سرداروں کو آپس میں تقسیم کیا اور ان سب کو وظائف دے کر دہلی کا وفادار بنا لیا‘انگریز کے دور میں بلوچستان اے اور بی دو ایریاز میں تقسیم ہوا‘ اے ایریا میں انگریز کی حکومت اور سسٹم تھا جب کہ بی ایریا سرداروں کے قبضے میں رہا‘ حکومت سرداروں کو امن و امان کی حفاظت کے لیے سالانہ وظیفہ دیتی تھی‘ سردار اس کے عوض اپنی پرائیویٹ پولیس بناتا تھا اور وہ پولیس سڑکوں اور ریلوے لائینز کی حفاظت کرتی تھی‘ یہ علاقے میں جرائم پر بھی قابو رکھتی تھی‘ سرداروں کی یہ پولیس لیوی یا لیویز کہلاتی تھی‘ 1948ء میں بلوچ ریاستوں کے انضمام کے بعد اصولی طور پر یہ سسٹم ختم ہو جانا چاہیے تھا اوربلوچستان میں بھی پنجاب‘ سندھ اور صوبہ سرحد کی طرح وفاقی اور صوبائی انتظامی نظام نافذ ہو جانا چاہیے تھا لیکن اس وقت ملک سیاسی طوائف الملوکی کا شکار تھا‘ حکومتیں تیزی سے تبدیل ہو رہی تھیں‘ بھارتی وزیراعظم نہرو نے اس سیاسی بحران کے بارے میں ٹھیک کہا تھا‘ میں سال میں اتنی دھوتیاں نہیںبدلتا جتنی پاکستان میں حکومتیں بدل جاتی ہیں چناں چہ پاکستانی حکومتوں نے بلوچستان کو جوں کا توں یعنی انگریز کے سسٹم کے مطابق چلنے دیا یوں اس کا 95 فیصد علاقہ آزادی کے بعد بھی بی ایریا رہا‘ سردار وفاق سے وظیفہ وصول کرتے رہے اور ان کی پرائیویٹ پولیس یا فوج بدستور قائم رہی‘ سرداروں کی فوج ان کے قبائلی لوگ ہوتے تھے‘ یہ ان کے باج گزار اور وفادار ہوتے تھے‘ سردار کا حکم ان کے لیے ریاست سے اہم ہوتا تھا۔

حکومت کی سرداروں کے معاملے میں دوسری بڑی غلطی انہیں اقتدار میں شامل کرنا تھا‘ بلوچستان میں 1972ء میں پہلے وزیراعلیٰ نے اقتدار سنبھالا‘ یہ سردار اختر مینگل کے والد سردار عطاء اللہ مینگل تھے‘ اس کے بعد سرداروں کی لائین لگ گئی‘ ایک سردار کو ہٹا کر دوسرا سردار لایا جاتا تھا اور پھر اس کی جگہ تیسرا سردار وزیراعلیٰ بن جاتا تھا یوں پچھلے 54 برسوں میں بلوچستان میں کل 18 وزیراعلیٰ آئے‘ ان میں سے 15 سردار تھے‘ آپ اس سے صورت حال کا اندازہ کر لیجیے‘ یہ سردار ملٹری ڈکٹیٹرز کے ساتھ اپنے تعلقات اچھے رکھتے تھے جس سے دونوں کا کام چلتا رہتا تھا اور دوسرا یہ اپنے سردار بھائیوں کو بھی اقتدار میں شریک کر لیتے تھے‘ بلوچستان میں ایک ایسا دور بھی آیا جب نواب اسلم رئیسانی کی کابینہ میں وزیروں اور مشیروں کی تعداد 51 ہو گئی جب کہ بلوچستان اسمبلی کے کل ممبرز (ایم پی ایز) کی تعداد 65 تھی گویا اسمبلی کا 78فیصد کابینہ میں شامل تھا‘ اسلم رئیسانی صاحب صرف یہیں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے باقی 14 ممبرز کو بھی اقتدار کے کیک میں شامل کر لیا‘ اسلم رئیسانی کے مخالف سردار یار محمد رند اپوزیشن لیڈر تھے‘ یہ عہدہ بذات خود سینئر وزیر کے برابر ہوتا ہے جب کہ باقی 13 ارکان کو مختلف وزارتوں اور علاقوں میں کوآرڈی نیشن کی ذمہ داریاں دے دی گئیں یوں پوری اسمبلی اقتدار کے مزے لوٹتی رہی‘ اس بندوبست کے دو نقصان ہوتے رہے‘ سرکاری خزانہ سیدھا سرداروں کی جیب میں چلا جاتا تھاجس کے نتیجے میں عوام مکمل طور پر محروم ہوتے چلے گئے اور دوسرا جو سردار اقتدار سے محروم ہوتا تھا وہ وفاق کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیتا تھا‘ وہ پنجاب کو گالی دینے لگتا تھا‘ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا تھا جب تک اقتدار میں اس کی باری نہیں آجاتی تھی‘ بلوچستان کی 54 سال کی تاریخ میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ واحد نیچرل اور جینوئن وزیراعلیٰ تھے‘ یہ سردار نہیں تھے‘ لوئر مڈل کلاس کے پڑھے لکھے وزیراعلیٰ تھے لہٰذا ان کے دور میں صوبے میں واقعی ترقی ہوئی اور عوام کا پیسہ عوام پر لگا لیکن میاں نواز شریف نے کیوں کہ اڑھائی‘ اڑھائی سال کے اقتدار کا فارمولہ بنا رکھا تھا لہٰذا 24 دسمبر 2015ء کو ڈاکٹر عبدالمالک کی جگہ سردار ثناء اللہ زہری کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا اور انہوں نے کرسی پر بیٹھتے ہی ساری کسر نکال دی‘

ان کے بارے میں مشہور تھا کراچی کو حب سے پانی سپلائی ہوتا تھا‘ ان کا سٹاف وہاں سے بھی روزانہ کروڑ روپے وصول کرتا تھا‘ بہرحال قصہ مختصر سردار صوبے کے زیادہ تر وسائل چوس گئے‘ یہ وفاق کی اشرافیہ کے ساتھ مل کر کھرب پتی بن گئے لیکن عوام محروم سے محروم ہوتے چلے گئے‘ بلوچستان میں2000ء کے بعد تعلیم اور موبائل فون کاانقلاب آگیا‘ جنرل پرویز مشرف کے دور سے پورے صوبے میں نئے کالجز اور یونیورسٹیز بننا شروع ہوئیں‘ آپ المیہ دیکھیے‘ 1948ء میں پورے بلوچستان (ملک کے کل 44فیصد رقبے) میں صرف سو سے 140 پرائمری سکول تھے‘ پورے صوبے میں صرف 9 ہائی سکول تھے‘ ان کا سارا سٹاف پنجابی اور سندھی تھا جب کہ پورے صوبے میں کوئی کالج اور کوئی یونیورسٹی نہیں تھی‘ تعلیم صرف سرداروں کے بچوں کے لیے تھی اور وہ بھی پنجاب اور سندھ سے دلائی جاتی تھی‘ سردار اپنے بچوں کو بچپن ہی میں ایچی سن کالج لاہور بھجوا دیتے تھے یا کراچی بھیج دیتے تھے‘ آج بھی کراچی میں تمام سرداروں کے گھر موجود ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے کراچی میں رکھتے تھے‘ سرداروں کی زیادہ تر پراپرٹیز اور سرمایہ بھی کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد میں پارک ہے‘ خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری کے انقلاب کے بعد سرداروں نے دوبئی‘ ابوظہبی‘ شارجہ اور مسقط کا رخ بھی کر لیا چناں چہ آج تقریباً تمام بلوچ سرداروں کے خلیجی ممالک میں ولاز اور پلازے ہیں‘ یہ لندن‘ نیویارک اور استنبول میں بھی کھربوں روپے کی پراپرٹیز کے مالک ہیں‘ یہ سب کہاں سے آیا؟ یہ بلوچ عوام کے پیسے ہیں‘ جنرل مشرف کے دور میں صوبے میں تعلیم کا انقلاب آنے لگا یہاں تک کہ آج صوبے میں 12یونیورسٹیاں‘ 135 کالجز اور 14709 سکولز ہیں‘ پانچ میڈیکل کالجز اور دو بڑی انجینئرنگ یونیورسٹیاں بھی ہیں‘ حکومت بیف(BEEF‘بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ)کے ذریعے ہر سال ہزاروں طالب علموں کو 645ارب روپے کے وظائف دیتی ہے‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے ماہ رنگ بلوچ سمیت زیادہ تر باغی بلوچوں نے سرکاری وظائف پر تعلیم حاصل کی‘ تعلیم کے اس انقلاب نے لوگوں کو حقوق کا شعور دیا‘ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا انقلاب بھی آ گیا اور بلوچستان کے نوجوانوں کو فون کی سکرین پر لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد کی ترقی نظر آنے لگی اور انہوں نے اپنی پس ماندگی کی وجہ پوچھنا شروع کر دی جس کے بعد سرداروں کے پاس دو آپشن تھے‘ یہ اپنی غلطی یا ظلم کو تسلیم کر لیتے اور خود کو عوام کی عدالت میں پیش کر دیتے‘دوسرا یہ عوام کے سوالوں کو نفرت بنا کر وفاق کی طرف بھجوا دیتے‘

سرداروں نے دوسرا آپشن لے لیا‘ انہوں نے وہ محرومی جس کی بنیاد انہوں نے خود رکھی تھی‘ اسے پنجاب اور فوج کے کھاتے میں ڈال دیا اور یوں بلوچ نوجوان نفرت سے ابلنے لگے‘ آپ سرداروں کا کمال دیکھیے‘ یہ ایک طرف وفاق سے لیویز کی مد میں رقم وصول کرتے تھے جو سیدھی ان کی جیب میں چلی جاتی تھی اور بے چارے ’’سپاہیوں‘‘ کو کچھ نہیں ملتا تھا‘ لیوی اگر کبھی ان سے مطالبہ بھی کرلیتی تھی تو یہ کہتے سرکار نے ہمیں پیسے ہی نہیں دیے‘ میں تمہارا راشن اور پٹرول بھی پلے سے دے رہا ہوں‘ دوسری طرف یہ بلوچستان کا بجٹ کھا گئے اور تیسری طرف یہ قدرتی وسائل کی رائلٹی بھی لیتے رہے‘ پاکستان کی 17فیصد گیس ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی سے نکلتی ہے‘ نواب اکبر بگٹی50برس اس کی رائلٹی لیتے رہے‘ یہ رقم کہاں گئی؟ کوئی نہیں جانتا‘ نواب اگر اس کا دس فیصد بھی اپنے علاقے پر لگا دیتا تو آج ڈیرہ بگٹی ملک کا خوب صورت اور سہولتوں سے بھرپور خطہ ہوتا لیکن سردار اور اس کا خاندان امیر سے امیر ہوتا چلا گیا جب کہ لوگ غریب سے غریب تر بنتے چلے گئے‘ آپ طرفہ تماشا دیکھیے‘ سوئی کے پورے علاقے میں صرف نواب کے محل میں گیس کا کنکشن تھا باقی پورا علاقہ گیس کی نعمت سے محروم تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ نواب نے 1960ء کی دہائی میں وفاق سے معاہدہ کیا تھا حکومت علاقے میں کسی کو گیس کا کنکشن نہیں دے گی تاکہ نواب اور عام بگٹی میں فرق رہ سکے تاہم میں اس ظلم میں سرداروں کی بجائے وفاق کو زیادہ ذمہ دار سمجھتا ہوں‘ سردار‘ سردار تھے‘ یہ حکمران تھے‘ ان کا کام ہی اپنے علاقے کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا تھاجب کہ وفاق کو اپنی آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے تھیں‘ اسے لوگوں کو سرداروں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے تھا‘ بلوچستان کا بی ایریا 1950ء کی دہائی ہی میں اے ایریا ہو جانا چاہیے تھا تاکہ لوگوں کو براہ راست حقوق ملتے رہتے چناں چہ اگر سردار اپنے لوگوں کو محروم رکھنے کے ذمہ دار ہیں تو اس میں وفاق بھی برابر کا شریک تھا‘ اس نے اپنے عوام کو سرداری نظام کے ہاتھوں میں کیوں رہنے دیا؟ کیا وفاق اور وفاقی جماعتوں کے پاس اس کا کوئی جواب موجود ہے؟۔

بلوچستان کا چوتھا ایشو گریٹ گیم ہے‘ بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے‘ اس میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر ہیں اور یہ چین کے بعد دنیا میں رئیر ارتھ منرلز کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی ہے‘ ان کے ساتھ ساتھ اس کے پاس770کلو میٹر کا ساحل بھی ہے‘ بلوچستان اگر پچھلے چالیس سال میں صرف سی فوڈز کو اپنی فیکٹری یا منڈی بنا لیتا تو بھی اس کا مقدر بدل سکتا تھا مگر اس پر بھی کوئی کام نہیں ہوا‘ اس کی لوکیشن بھی بہت قیمتی ہے‘ یہ ایک طرف روس کو گرم پانیوں تک رسائی دے سکتا ہے‘ دوسری طرف ایران کی دونوں بندرگاہوں بندر عباس اور چاہ بہار کی جگہ لے سکتا ہے‘یہ تیسری طرف سے خلیج کی تمام بندر گاہیں ٹھپ کر سکتا ہے اور چوتھا یہ گوادر کے ذریعے چین کو صرف 48 گھنٹوں میں بحیرہ عرب تک پہنچا سکتا ہے‘ چین کے بحری جہاز 14 دنوں میں بحیرہ عرب پہنچتے ہیں جب کہ چین کا مال سی پیک کے ذریعے سست بارڈر سے 48 گھنٹوں میں گوادر اور پھر وہاں سے پوری دنیامیں پہنچ سکتا ہے چناں چہ یہ بڑی قوموں کے مفادات کے لیے بہت آئیڈیل میدان جنگ ہے اور یہ اس میدان میں اتر چکی ہیں‘ بلوچستان میں اس وقت چھ انٹرنیشنل فورسز برسر پیکار ہیں۔ (جاری ہے)

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…