بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

کوٹ لکھپت جیل: عمران خان کی بہنوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کردی

datetime 30  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی نے کوٹ لکھپت جیل میں مبینہ طور پر احتجاجاً کھانا چھوڑ دیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق خواتین نے جیل میں ضروری اشیاء کی عدم فراہمی اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے معاملے پر بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔عمران خان کے کزن قاسم زمان نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات کے باوجود تینوں خواتین کو مطلوبہ اشیاء فراہم نہیں کی گئیں، جس پر انہوں نے احتجاج کے طور پر کھانا ترک کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکام فوری طور پر خاندان کو تینوں بہنوں سے ملاقات کی اجازت دیں اور ان کی صحت کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔قاسم زمان کے مطابق جیل میں موجود خواتین کو بنیادی ضروریات کی فراہمی اور اہل خانہ و وکلا تک رسائی ان کا حق ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے ملاقات اور دیگر سہولیات کے حوالے سے درپیش مسائل حل کیے جائیں۔دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ روز پنجاب حکومت کی جانب سے مؤقف پیش کیا گیا تھا کہ علیمہ خان کو جیل میں بنیادی سہولیات اور ضروری سامان مہیا کردیا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ کی رپورٹ میں بیڈ شیٹ، کمبل، کپڑے، جوتے، تولیہ، فیس واش، ٹوتھ برش، اسکن کیئر کٹ اور شال سمیت مختلف اشیاء فراہم کیے جانے کی تفصیلات عدالت کے سامنے رکھی گئی تھیں۔عدالت نے بنیادی سہولیات سے متعلق درخواست پر جیل انتظامیہ کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس معاملے کو نمٹا دیا تھا۔

تاہم اہل خانہ سے ملاقات کے معاملے میں پنجاب کے ہوم سیکرٹری کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری اور جیل میں موجودگی کے بعد سے خاندان کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انہیں اپنی عزیزوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ خواتین سے براہ راست ملاقات ضروری ہے تاکہ ان کی صحت، ضروریات اور دیگر معاملات کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔ادھر تینوں خواتین کی مبینہ بھوک ہڑتال سے متعلق دعویٰ بھی ان کے خاندان کی جانب سے سامنے آیا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ حکومت اور خاندان کے مؤقف میں بھی خواتین کی حراست اور جیل میں دستیاب سہولیات کے معاملے پر اختلاف موجود ہے۔قاسم زمان نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام صورتحال کا فوری نوٹس لیں، تینوں خواتین کو ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنائیں اور اہل خانہ و وکلا کو ان تک رسائی دینے کے حوالے سے عدالتی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…