اسلام آباد (نیوز ڈیسک)لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تینوں بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی نے کوٹ لکھپت جیل میں مبینہ طور پر احتجاجاً کھانا چھوڑ دیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق خواتین نے جیل میں ضروری اشیاء کی عدم فراہمی اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے معاملے پر بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔عمران خان کے کزن قاسم زمان نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات کے باوجود تینوں خواتین کو مطلوبہ اشیاء فراہم نہیں کی گئیں، جس پر انہوں نے احتجاج کے طور پر کھانا ترک کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکام فوری طور پر خاندان کو تینوں بہنوں سے ملاقات کی اجازت دیں اور ان کی صحت کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔قاسم زمان کے مطابق جیل میں موجود خواتین کو بنیادی ضروریات کی فراہمی اور اہل خانہ و وکلا تک رسائی ان کا حق ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے ملاقات اور دیگر سہولیات کے حوالے سے درپیش مسائل حل کیے جائیں۔دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ روز پنجاب حکومت کی جانب سے مؤقف پیش کیا گیا تھا کہ علیمہ خان کو جیل میں بنیادی سہولیات اور ضروری سامان مہیا کردیا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ کی رپورٹ میں بیڈ شیٹ، کمبل، کپڑے، جوتے، تولیہ، فیس واش، ٹوتھ برش، اسکن کیئر کٹ اور شال سمیت مختلف اشیاء فراہم کیے جانے کی تفصیلات عدالت کے سامنے رکھی گئی تھیں۔عدالت نے بنیادی سہولیات سے متعلق درخواست پر جیل انتظامیہ کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس معاملے کو نمٹا دیا تھا۔
تاہم اہل خانہ سے ملاقات کے معاملے میں پنجاب کے ہوم سیکرٹری کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری اور جیل میں موجودگی کے بعد سے خاندان کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انہیں اپنی عزیزوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ خواتین سے براہ راست ملاقات ضروری ہے تاکہ ان کی صحت، ضروریات اور دیگر معاملات کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔ادھر تینوں خواتین کی مبینہ بھوک ہڑتال سے متعلق دعویٰ بھی ان کے خاندان کی جانب سے سامنے آیا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ حکومت اور خاندان کے مؤقف میں بھی خواتین کی حراست اور جیل میں دستیاب سہولیات کے معاملے پر اختلاف موجود ہے۔قاسم زمان نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام صورتحال کا فوری نوٹس لیں، تینوں خواتین کو ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنائیں اور اہل خانہ و وکلا کو ان تک رسائی دینے کے حوالے سے عدالتی ہدایات پر عمل کیا جائے۔



















































