پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی یونیورسٹی نے مولانا طارق جمیل کو پی ایچ ڈی ڈگری دے دی

datetime 21  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست فلوریڈا کی انٹرنیشنل تھی ازم یونیورسٹی کی جانب سے معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کو اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں انہوں نے خطاب بھی کیا۔

اپنے خطاب میں مولانا طارق جمیل نے اعزازی ڈگری کے لیے انتخاب کو اپنے لیے باعثِ اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع نے انہیں خوشی اور سعادت کا احساس دیا ہے۔

مولانا طارق جمیل نے اپنی ابتدائی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں۔ وہ 11 برس کی عمر میں سنٹرل ماڈل اسکول میں داخل ہوئے۔ ان کے والد تعلیم یافتہ تھے اور قائداعظم کے ملتان دورے کے موقع پر اسٹیج سیکریٹری کی ذمہ داری بھی انجام دے چکے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ بچپن میں انہیں گانے کا شوق ہوگیا تھا اور دیگر طلبہ جب کتابوں کا مطالعہ کرتے تو وہ فلمی رسائل پڑھا کرتے تھے۔ پڑھائی میں عدم دلچسپی کے باعث اساتذہ سے سب سے زیادہ مار بھی انہیں ہی پڑی۔ ان کے مطابق وہ پورا سال باقاعدگی سے نہیں پڑھتے تھے اور امتحانات کے قریب تیاری شروع کرتے تھے، تاہم آٹھویں جماعت میں سنٹرل ماڈل اسکول میں دوسری پوزیشن حاصل کی تو اساتذہ بھی حیران رہ گئے۔

مولانا طارق جمیل نے اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ جمعے کے روز ایک دوست انہیں اچانک نیلا گنبد مسجد لے گیا اور بتایا کہ آج تبلیغی جماعت کے ساتھ جانا ہے۔ ابتدا میں انہوں نے جانے سے گریز کیا لیکن بعد میں دوست کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ ان کے مطابق تبلیغ کے لیے جانے کا یہ سفر تین دن سے شروع ہوا اور چار ماہ تک جاری رہا۔

انہوں نے بتایا کہ اسی دوران ایک ساتھی نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا کررہے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ڈاکٹر بننے کی تیاری کررہے ہیں۔ ساتھی نے انہیں عالم بننے کا مشورہ دیا۔ مولانا طارق جمیل کے مطابق اس زمانے میں ڈاکٹر کو بہت معتبر سمجھا جاتا تھا۔ جب ان کے والد کو ان کے تبلیغی جماعت کے ساتھ جانے کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ اگر مولوی بننا ہے تو گھر سے چلے جاؤ۔ ان کی والدہ نے بھی رخصت ہوتے وقت انہیں 300 روپے دیے۔ ان کے بقول یہیں سے دین کی طرف ان کے سفر کا آغاز ہوا۔

مولانا طارق جمیل نے اپنے خطاب میں قرآن اور عبادت کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کا خلاصہ قرآن، قرآن کا خلاصہ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الفاتحہ کا مرکزی پیغام ’’ایاک نعبد و ایاک نستعین‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو مشکلات اور ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا چاہیے اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ نبی کریم ﷺ سے محبت اور آپ ﷺ کی پیروی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق مسلمانوں کے لیے نبی کریم ﷺ کے طریقے کو چھوڑنے کے نتائج دنیا میں بھی سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج 57 اسلامی ممالک موجود ہیں، تاہم امت کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔

مولانا طارق جمیل نے آخرت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موت کے بعد انسان کا معاملہ ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اللہ تعالیٰ دوبارہ اٹھائے گا اور اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا عارضی اور دھوکے کا گھر ہے، اصل کامیابی آخرت کی تیاری میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کو نیک اعمال کے ذریعے جنت کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے اور جہنم سے بچانے والے اعمال اختیار کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق دنیا میں جنت کا راستہ مشکلات سے بھرا ہے جبکہ جہنم کی طرف جانے والے راستے میں بظاہر آسائشیں موجود ہوتی ہیں۔ انہوں نے امام حسینؓ کی قربانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنت کا راستہ آسان ہوتا تو اتنی بڑی قربانی پیش نہ کرنا پڑتی۔

مولانا طارق جمیل نے مزید کہا کہ انسان اپنی زندگی محض اپنی خواہشات کے مطابق نہیں گزار سکتا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی بسر کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا ہے اور مشاہدے میں آیا کہ جو لوگ اللہ سے دور ہوتے ہیں، وہاں نشہ آور اشیا کا استعمال بھی زیادہ نظر آتا ہے۔

انہوں نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایسی بے شمار نعمتیں موجود ہوں گی جن کا دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور یہ نعمتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی ظاہری شان و شوکت، پروٹوکول اور جھنڈوں والی گاڑیاں عارضی چیزیں ہیں، حقیقی کامیابی اس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے راضی ہوجائے گا۔

تقریب سے مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن کے چیئرمین یوسف جمیل نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے والد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزازی ڈگری دراصل مولانا طارق جمیل کے لیے ہی نہیں بلکہ خود اس ڈگری کے لیے بھی اعزاز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف شہرت حاصل کرنا کامیابی نہیں، اصل کامیابی اپنے مقصد کو مؤثر انداز میں آگے پہنچانا ہے اور مولانا طارق جمیل نے دین کی خدمت کے ذریعے یہ کردار ادا کیا۔

یوسف جمیل نے کہا کہ عام طور پر والدین اپنی اولاد پر فخر کرتے ہیں، تاہم انہیں اپنے والد پر فخر ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت کو مولانا طارق جمیل جیسے مزید افراد عطا فرمائے جو لوگوں کی دینی تربیت اور رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…