جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

تنخواہ دارطبقہ کیلئے ریلیف،مختلف ٹیکس سلیبزمیں ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی،9 فیصد سرچارج بھی ختم، ایف بی آر کا وضاحتی بیان جاری

datetime 10  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت کی جانب سے تنخواہ دارطبقہ کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تنخواہ سے حاصل ہونے والی آمدن پر

مختلف ٹیکس سلیبز میں ٹیکس کی شرحوں میں کمی کردی گئی ہے ، 10 ملین روپے سے زائد قابلِ ٹیکس آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد پر عائد 9 فیصد سرچارج بھی ختم کردیا گیا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے جاری وضاحتی بیان کے مطابق فنانس ایکٹ 2026 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے فرسٹ شیڈول کے حصہ اول ڈویژن اول کی شق (2) میں موجود جدول کو تبدیل کرتے ہوئے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی نظرثانی شدہ شرحیں مقرر کی گئی ہیں،نظرثانی شدہ شرحوں کے مطابق 6 لاکھ روپے تک سالانہ قابلِ ٹیکس آمدن پر کوئی انکم ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ 6 لاکھ روپے سے زائد لیکن 12 لاکھ روپے تک آمدن پر 6 لاکھ روپے سے زائد رقم کا ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا،12 لاکھ روپے سے زائد لیکن 22 لاکھ روپے تک قابلِ ٹیکس آمدن پر 6 ہزار روپے کے علاوہ 12 لاکھ روپے سے زائد رقم کا 11 فیصد ٹیکس عائد ہوگا اسی طرح 22 لاکھ روپے سے زائد لیکن 32 لاکھ روپے تک آمدن پر 1 لاکھ 16 ہزار روپے کے علاوہ 22 لاکھ روپے سے زائد رقم کا 20 فیصد ٹیکس ہوگا۔

وضاحتی سرکلرکے مطابق 32 لاکھ روپے سے زائد لیکن 41 لاکھ روپے تک قابلِ ٹیکس آمدن رکھنے والے افراد سے 3 لاکھ 16 ہزار روپے کے علاوہ 32 لاکھ روپے سے زائد رقم کا 25 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا41،لاکھ روپے سے زائد لیکن 56 لاکھ روپے تک آمدن پر 5 لاکھ 41 ہزار روپے کے علاوہ 41 لاکھ روپے سے زائد رقم کا 29 فیصد ٹیکس عائد ہوگا،56 لاکھ روپے سے زائد لیکن 70 لاکھ روپے تک قابلِ ٹیکس آمدن پر 9 لاکھ 76 ہزار روپے کے علاوہ 56 لاکھ روپے سے زائد رقم کا 32 فیصد ٹیکس ہوگا۔سرکلرکے مطابق 70 لاکھ روپے سے زائد قابلِ ٹیکس آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 14 لاکھ 24 ہزار روپے کے علاوہ 70 لاکھ روپے سے زائد رقم کا 35 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

حکومت نے تنخواہ دار افراد پر عائد سرچارج میں بھی اہم کمی کردی ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 4 اے بی کے تحت ایسے افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کی قابلِ ٹیکس آمدن 10 ملین روپے سے تجاوز کرنے کی صورت میں انکم ٹیکس کی مقررہ رقم پر 10 فیصد سرچارج عائد کیا جاتا ہے تاہم تنخواہ سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کے لیے اس حد پر 9 فیصد سرچارج لاگو تھا،فنانس ایکٹ 2026 کے ذریعے تنخواہ دار افراد کے لیے یہ 9 فیصد سرچارج ختم کردیا گیا ہے،نئی ترمیم کے تحت 10 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والے دیگر افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز پر 10 فیصد سرچارج بدستور نافذ رہے گا تاہم تنخواہ دار فرد اس سرچارج سے مستثنی ہوگا۔ ٹیکس سلیبز میں کمی اور تنخواہ دار افراد کے لیے سرچارج کے خاتمے کا مقصد اس طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرکے انہیں مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…