منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

وہ ملک جہاں ہر بچے کی پیدائش پر 17 سال کی عمر تک ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد دیے جائیں گے

datetime 1  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں بڑھتی مہنگائی کے باعث شادی اور اس کے بعد بچوں کی پرورش کے اخراجات بھی کئی خاندانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

ایسے میں ایک ملک نے والدین کی مالی مشکلات کم کرنے اور شرح پیدائش میں اضافے کے لیے بچوں کی پیدائش پر غیر معمولی مالی معاونت دینے کا اعلان کیا ہے۔

سنگاپور کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والے ہر سنگاپوری بچے کو 17 سال کی عمر تک مختلف مراحل میں مجموعی طور پر 55 ہزار 48 امریکی ڈالر سے زائد کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جو پاکستانی کرنسی میں ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔

وزیراعظم سنگاپور لارنس وونگ نے حالیہ اعلان میں بتایا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں مسلسل کم ہوتی شرحِ پیدائش کے مسئلے سے نمٹنا اور والدین کو بچوں کی پرورش کے دوران مالی سہارا فراہم کرنا ہے۔

لارنس وونگ کے مطابق سنگاپور میں پہلے ہی بچوں کی پیدائش پر مختلف مالی مراعات دی جاتی ہیں، تاہم ان مراعات کا طریقہ کار خاندان میں بچے کی پیدائش کی ترتیب سے منسلک ہونے کے باعث عام افراد کے لیے قدرے پیچیدہ تھا۔

نئے نظام کے تحت اس طریقہ کار کو آسان بنایا جائے گا اور سنگاپور کی شہریت رکھنے والے ہر بچے کے لیے مالی معاونت کا ایک واضح پیکیج متعارف کرایا جائے گا۔

حکومت کے مطابق یہ مالی پیکیج پانچ مختلف مراحل میں فراہم کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی 12 ماہ کے دوران والدین کو 7 ہزار 880 ڈالر دیے جائیں گے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 21 لاکھ 58 ہزار روپے سے زائد بنتے ہیں۔

دوسرے مرحلے کے تحت اگلے 16 سال کے عرصے میں مجموعی طور پر 69 لاکھ 85 ہزار روپے سے زائد رقم فراہم کی جائے گی۔ اس رقم کی سالانہ ادائیگی تقریباً 4 لاکھ 36 ہزار روپے سے زائد ہوگی۔

تیسرے مرحلے میں حکومت بچے کے چائلڈ ڈویلپمنٹ اکاؤنٹ میں 10 لاکھ 90 ہزار روپے سے زائد رقم جمع کرائے گی۔

چوتھے مرحلے میں بچے کے 16 سال کی عمر کو پہنچنے پر اسی چائلڈ ڈویلپمنٹ اکاؤنٹ میں مزید 10 لاکھ 90 ہزار روپے سے زائد فراہم کیے جائیں گے۔

پیکیج کے آخری مرحلے میں بچے کی عمر 17 سال ہونے پر اعلیٰ تعلیم کے اخراجات میں معاونت کے لیے حکومت کی جانب سے 21 لاکھ 76 ہزار روپے سے زائد رقم دی جائے گی۔

واضح رہے کہ سنگاپور میں شرحِ پیدائش گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر کم ہوئی ہے اور فی خاتون بچوں کی اوسط تعداد 0.87 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ عالمی سطح پر آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 2.1 کی شرحِ پیدائش کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…