بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کے نجی ہسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں نے بھی عدالت سے رجوع کرلیا

datetime 24  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی) بانی پی ٹی آئی کا نجی ہسپتال سے علاج کے احکامات کے بعد عام قیدیوں نے بھی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔

اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کیں۔۔جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ حکام کو نوٹس کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل سے پیراوائز کمنٹس طلب کرلییبیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکار ہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے، دو ماہ میں 10 مرتبہ ہسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا، اس مسلہ کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء ہسپتال میں ہی ممکن ہے۔بیرسٹر اختر چھینہ نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اگر بیماری کا علاج سرکاری ہسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ فیصلے نے واضح کر دیا کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں، سپریم کورٹ فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے استدعا ہے کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری اسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔د

رخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیے کہ درخواست گزار اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے، مناسب علاج معالجہ کروانا قیدی کا بنیادی حق ہے، سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن نہیں لہٰذا شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔تیسرے قیدی کے وکیل نے دلائل دیے کہ درخواست گزار محمد اسماعیل 9 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہے، ایک بھائی دبئی ہوتا ہے لیکن سالوں سے رابطہ نہیں ہے، جیل حکام کو حکم دیا جائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کروائی جائے۔عدالت نے تینوں کیسز میں جیل حکام کو جواب کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…