ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے تھے‘
یہ لیٹرین کہلاتے تھے جو لاطینی لفظ لاواٹرینا (Lavatrina)کی بگڑی ہوئی صورت تھی‘ لیٹرین میں ڈیڑھ سے دو فٹ اونچے اینٹوں کے چولہے بنے ہوتے تھے‘ لیٹرین کے باہر پانی کا لوہے کا پرانا اور بدصورت کولر اور سلور (المونیم) کا لوٹا ہوتا تھا‘ لوٹا مسلسل اذیت‘ ٹھڈے اور ذلالت برداشت کر کے پچک جاتا تھا‘ اسے پلید سمجھ کر دھویا نہیں جاتا تھا لہٰذا بعض اوقات اس میں کائی بھی جمی ہوتی تھی‘ امیر لوگ المونیم کی جگہ پیتل کا لوٹا استعمال کرتے تھے‘ مسجدوں میں مٹی کے لوٹے استعمال ہوتے تھے جنہیں ہم ’’کوزے‘‘ کہتے تھے‘ چھت پر اگر کولر نہیں ہوتا تھا تو ہر شخص بالٹی میں پانی بھر کر اوپر لے جاتا تھا یا پھر نیچے سے لوٹا بھر کر چھت پر جاتا تھا‘ لیٹرینوں کے دروازے عارضی‘ ڈھیلے اور بدصورت ہوتے تھے‘ بعض لوگ ان کے سامنے پردے بھی لٹکا دیتے تھے چناں چہ اندر بیٹھے شخص کو اپنی موجودگی کا اظہار کرنے کے لیے بار بار ’’کھنگورا‘‘ مارنا پڑتا تھا‘ صبح اور شام کے وقت تمام چھتوں پر بنیانوں میں ملبوس مرد ٹہلتے‘ مسواک کرتے یا سگریٹ پھونکتے نظر آتے تھے‘ یہ واش روم کی تیاری ہوتی تھی‘ ایک دو لوگوں کی آمدورفت کے بعد واش روم استعمال کے قابل نہیں رہتا تھا لہٰذا اس کے بعد کے لوگ ناک منہ لپیٹ کر اندر داخل ہوتے تھے‘ غلاظت کی وجہ سے ہر چھت سے بو آتی تھی اور لوگ اس پر جانے سے پرہیز کرتے تھے‘
خواتین رات کے وقت اندھیرے میں لیٹرین جاتی تھیں یا پھر فجر کے وقت مردوں کے اٹھنے سے پہلے۔ صفائی کے لیے شہروں میں ایک خاص طبقہ ہوتا تھا‘ یہ ’’چوہڑے‘‘ کہلاتے تھے‘ ان کے مرد اور عورت دونوں کام کرتے تھے‘ ان کے پاس غلاظت اٹھانے کے لیے ٹوکریاں ہوتی تھیں جب کہ بول وبراز اکٹھا کرنے کے لیے لوہے کی پلیٹ اور فٹ سوا فٹ کا جھاڑو ہوتا تھا‘ ہم لوگ انہیں ’’جمعدار‘‘ کہتے ہیں‘ جمعدار بنیادی طور پر مغلوں کے زمانے کا سرکاری عہدہ تھا‘ یہ لوگ خزانے کا حساب رکھتے تھے یا ٹیکس جمع کرتے تھے اور دربار اور معاشرے میں عزت دار سمجھے جاتے تھے۔ ’’خان ساماں‘‘ بھی مغلوں کا عہدہ تھا‘ یہ شاہی جیولری اور خزانے کا کیئر ٹیکر ہوتا تھا اور ’’خان سامان‘‘ کہلاتا تھا جب کہ صوبے دار مغلوں کے زمانے کا گورنر ہوتا تھا‘ انگریز نے ہندوستان پر قبضے کے بعد بطور تذلیل سویپر کو جمعدار‘ خان سامان کو کک(خان ساماں) اور صوبے دار کو نان کمیشنڈ آفیسر بنا دیا‘ پولیس میں حوال دار کا عہدہ بھی مغلوں سے مستعار لیا گیا تھا‘ یہ بھی ماضی میں باعزت عہدہ ہوتا تھا‘ جمعدار دروازے پر پہنچ کر کنڈی کھڑکا کر کہتا تھا ’’بی بی جمعدار یا جمعدارنی آئی ہے‘‘ یہ سنتے ہی سب لوگ ناک پر ہاتھ یا رومال رکھ لیتے تھے‘ جمعدار اوپر جا کر صفائی کرتا تھا‘ بول وبراز ٹوکری میں ڈالتا تھا اور چپ چاپ گھر سے نکل جاتا تھا‘ یہ لوگ راستے میں جہاں جہاں سے گزرتے تھے وہاں لوگ منہ پر ہاتھ رکھ کر سائیڈ پر ہو جاتے تھے‘ جمعدار شہر سے باہر جہاں ٹوکریاں صاف کرتے تھے وہاں ہر وقت چیلیں اور کوے منڈلاتے رہتے تھے‘ یہ لوگ ہفتے کے آخر میں پیسے وصول کرتے تھے‘ ہماری والدہ انہیں کھانا بھی دیتی تھی جسے یہ دہلیز پر بیٹھ کر کھاتے تھے‘ انہیں کھاتا دیکھ کر لوگ عجیب سا منہ بناتے تھے‘ لوگ ان سے ہاتھ ملانا یا قریب کھڑا ہونا پسند نہیں کرتے تھے لیکن اس کے باوجود کوئی شخص انہیں ناراض کرنے کی غلطی نہیں کرتا تھا‘ ان کا معاوضہ ہمیشہ وقت پر ادا کیا جاتا تھا کیوں کہ ان کی ناراضی کی صورت میں ان کا گھر رہائش کے قابل نہیں رہتا تھا‘ ان کی یونین بہت تگڑی تھی اگر ایک جمعدار ناراض ہو جاتا تھا تو پھر کوئی جمعدار اس گھر کا کام نہیں کرتا تھا یہاں تک کہ گستاخ کو ان کے سردار سے معافی مانگنا پڑتی تھی اور تاوان بھی ادا کرنا پڑتا تھا جو عموماً شراب کی بوتل ہوتا تھا‘ یہ لوگ بے تحاشا شراب پیتے تھے‘ ان سے شراب کی بو بھی آتی رہتی تھی‘ ہمارے شہر میں ایک بار ان لوگوں نے ہڑتال کر دی‘ اس دن شہر کی حالت دیکھنے لائق تھی‘تمام لوگ منہ پر رومال رکھ کر دہلیزوں پر بیٹھے تھے‘ لوگوں نے بڑی مشکل سے انہیں راضی کیا اور پھر شہر میں صفائی ہوئی اور اس کے بعد کسی نے انہیں ناراض کرنے کی غلطی نہیں کی‘ پنجابی زبان میں ’’چوہڑوں جیسی اکڑ‘‘ کا ایک محاورہ بھی موجود ہے‘ یہ لوگ کیوں کہ ایسا کام کرتے تھے جو کوئی دوسرا سرانجام نہیں دے سکتا تھا چناں چہ ان کی چال میں خاص قسم کی اکڑ ہوتی تھی‘ یہ لوگ بول وبراز سے بھری ٹوکری لے کر گلی کے درمیان سے گزرتے تھے تو لوگ راستہ بدل لیتے تھے یا پھر منہ دیوار کی طرف کر کے کھڑے ہو جاتے تھے‘ جب جمعدار گزر جاتے تھے تو راہ گیر اس کے بعدگلی سے گزرتے تھے تاہم ان کی پھیلائی ہوئی بو بڑی دیر تک گلی میں موجود رہتی تھی‘ راستے میں اگر کوئی انہیں برا بھلا کہنے کی غلطی کر بیٹھتا تھا تو یہ بدبو سے بھری ٹوکری تھوڑی سی نیچے کر کے اونچی آواز میں دھمکی دیتے تھے ’’سٹاں تیرے اتے‘‘ اور بڑے سے بڑے بدمعاش کا پتا بھی پانی ہو جاتا تھا‘ ان کی اس چال ڈھال اور دھمکی کو ’’چوہڑوں جیسی اکڑ‘‘ کہا جاتا تھا‘ ہمارے شہر میں 1980ء کے وسط میں فلش سسٹم آ گیا جس کے بعد لیٹرینیں ختم ہو گئیں اور جمعداروں کی پوری کمیونٹی تیزی سے معدوم ہو گئی لیکن سیوریج کی وجہ سے شہر کی فضا بدبودار ہو گئی اور ناقص گٹڑوں کی بدولت پینے کا صاف پانی بھی آلودہ ہو گیا جس کے بعد شہر قابل رہائش نہ رہا۔
شہر میں حجام کی درجن بھر دکانیں تھیں‘ لوگ وہاں بال کٹوانے ‘ شیو کرانے اور نہانے کے لیے آتے تھے ‘ حجام کی دکانوں میں حمام ہوتے تھے جن میں سردیوں میں گرم پانی کی سہولت ہوتی تھی‘ اس کے لیے دکانوں کی چھتوں یا باہر لوہے کے بڑے بڑے حمام ہوتے تھے جن کے نیچے لکڑیاں جلتی رہتی تھیں‘ جگہ جگہ ’’گرم حمام دستیاب ‘‘کے بورڈ بھی لگے ہوتے تھے‘ حجام لوگوں کی تیل سے مالش بھی کرتے تھے‘ سر پر مالش عام تھی‘ لوگوں کا خیال تھا اس سے سر ہلکا ہو جاتا ہے اور ٹینشن اور ڈپریشن دور ہو جاتا ہے‘ حجام گرم پانی ضائع کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور انہیں ’’ابھی پانی نہیں ہے‘‘ کا کہہ کر ٹال دیتے تھے۔ ’’خفیہ شیو‘‘ کے کارناے بھی انہی حماموں میں سرانجام دیے جاتے تھے‘ حجاموں نے اس کام پر چھوٹے لگا رکھے تھے‘ جمعہ کے دن حمام اور حجام دونوں زیادہ مصروف رہتے تھے‘ مسجدوں میں بھی غسل خانے ہوتے تھے اور لوگ ان میں بھی نہاتے تھے‘ مسجدوں کے غسل خانوں کے اوپر چھوٹی ٹینکیاں ہوتی تھیں‘ انہیں کنوئیں میں ڈول ڈال کر پانی نکال کر بھرا جاتا تھا یا پھر نلکے کے ذریعے یہ ٹینکیاں بھری جاتی تھیں‘ یہ کام بچے برکت کے لیے کرتے تھے‘ مولوی صاحب ہر نماز کے بعد بچوں کو غسل خانے میں پانی جمع کرنے کے فضائل اور نیکیوں پر لیکچر دیتے تھے اور ہم سب بچے نیکیوں کے جھانسے میں آ کر گھنٹوں نلکے چلاتے رہتے تھے‘ لوگ غسل خانوں میں بوکوں اور نلکوں کے حساب سے پانی بھرنے کی منتیں بھی مانتے تھے جوں ہی ان کا کام ہو جاتا تھا تو یہ کنوئیں میں سے گن کر اتنے بوکے (ڈول) پانی غسل خانے میں بھر دیتے تھے یا اتنے سیکڑے نلکے چلاتے تھے‘ میری والدہ نے ایک بار میرے پاس ہونے کی منت میں ہزار بوکے مان لیے‘ اللہ معاف کرے وہ میرا مشکل ترین رزلٹ تھا کیوں کہ پاس ہونے کے بعد مجھے کنوئیں سے ہزار بوکے پانی نکالنا پڑا‘ میں نے یہ ٹاسک دو ہفتوں میں پورا کیا اور میرے پاس ہونے کی وجہ سے پورے محلے کے بزرگ مل مل کر نہاتے رہے جب کہ میں پاس ہونے کو کوستا رہا‘ حجاموں کی دکانوں کے سامنے صبح سویرے درجن بھر لوگ بیٹھ جاتے تھے‘ حجام انہیں مصروف رکھنے کے لیے دو کام کرتے تھے‘
یہ انہیں اخبار پکڑا دیتے تھے یوں ایک اخبار دس دس لوگوں میں تقسیم ہو جاتا تھا اور وہ اخبار کے ورق ایک دوسرے کے ساتھ بارٹر کرتے رہتے تھے‘ اخبارات میں خبروں کے بقایا جات کے الگ صفحے ہوتے تھے‘ خبریں پڑھنے کے بعد لوگ بقایا جات کا صفحہ تلاش کرتے رہتے تھے‘ وہ کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا تھا‘ وہ صفحہ دینے سے انکار کر دیتا تھا چناں چہ لوگ اس کے سامنے زمین پر اکڑوں بیٹھ کر خبروں کے بقایا جات تلاش کرتے تھے اور پڑھتے تھے جب کہ وہ شخص ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر اخبار پڑھتا رہتا تھا‘ اس زمانے میں حجام کی دکانیں اور چھوٹے چائے خانے اخبارات کی سرکولیشن کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے تھے‘ ہمارے زمانے میں زیادہ تر لوگ نائیوں کی دکانوں اور چائے خانوں پر اخبارات پڑھ کر جوان ہوئے‘ بعض اخبارات دو بار بکتے تھے‘ صبح انہیں کوئی اور خریدتا تھا‘ یہ پڑھنے کے بعد اخبار واپس کر دیتا تھا اور اخبار فروش اسے سہ پہر یا شام کے وقت آدھی قیمت پر کسی دوسرے گاہک کو بیچ دیتا تھا‘ دو‘ دو اور تین تین گھرانے مل کر بھی اخبار خریدتے تھے یوں اخبار شام تک ایک دکان سے دوسری اور دوسرے گھر سے تیسرے تک سفر کرتے رہتے تھے‘ اخبار مانگ کر پڑھنا بھی عام عادت تھی اور لوگ اسے برا نہیں سمجھتے تھے بلکہ بزرگ اخبار پڑھنے کے لیے ایک دوسرے سے عینک بھی مانگ لیتے تھے‘ حجاموں کا دوسرا کام داڑھی کو ’’وتر‘‘ لگانا تھا‘ یہ منتظر گاہکوں کے سامنے لوہے کی چھوٹی سی پیالی (کولی) رکھ دیتے تھے جس میں پانی ہوتا تھا‘ گاہک ان میں ہاتھ ڈال کر گیلا کرتے تھے اور پھر اس سے اپنی داڑھی رگڑتے رہتے تھے‘ اس سے داڑھی نرم ہو جاتی تھی اور حجام کو اسے اتارنے میں زیادہ دقت نہیں ہوتی تھی‘ یہ بعض اوقات انہیں صابن اور شیو پر رگڑنے والا برش ’’کوچی‘‘ بھی دے دیتا تھا‘ صابن بھی کولی میں ہوتا تھا‘ لوگ کوچی گیلی کر کے صابن پر رگڑتے تھے اور پھر اسے چہرے پر لگا کر جھاگ بناتے رہتے تھے جوں ہی پہلے گاہک کی شیو مکمل ہوتی تھی تو حجام منتظر گاہکوں میں سے اس شخص کو کرسی پر آنے کی دعوت دے دیتا تھا جس کے منہ پر زیادہ جھاگ ہوتی تھی (جاری ہے)۔



















































