ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ٹک ٹاکر شمسو بی بی کو کس نے مارا؟ تحقیقات میں تہلکہ خیز انکشاف

datetime 22  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پولیس نے سوشل میڈیا پر معروف شخصیت شمسو بی بی عرف عائشہ گلامنہ کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مقتولہ کے والد اور بھائی سمیت پانچ مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں کے ساتھ ساتھ انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ اس سلسلے میں 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا بھی جائزہ لیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شمسو بی بی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واردات کے بعد ملزمان نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے ایک فرضی کہانی بنانے کی کوشش کی، تاہم تفتیش کے دوران شواہد سے معاملہ واضح ہوگیا۔ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق مقتولہ کے والد نے مقدمہ درج کراتے ہوئے دو افراد کو نامزد کیا تھا، تاہم تحقیقات آگے بڑھنے کے بعد خود مدعی کا کردار بھی مشکوک پایا گیا اور اسے ملزم بنا کر گرفتار کرلیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والی مقتولہ کی بہن سے بھی تفتیش کی گئی، جس کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ قتل میں مقتولہ کے خاندان کے بعض افراد مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور وہاں موجودگی کو خاندان کے کچھ افراد ناپسند کرتے تھے، جسے قتل کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ قتل کے مقدمے میں مدعی کا خود ملزم بن جانا غیر معمولی صورتحال ہے، تاہم شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے۔ گرفتار پانچوں افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ قتل کے محرکات اور واقعے سے متعلق دیگر حقائق سامنے آسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…