اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پولیس نے سوشل میڈیا پر معروف شخصیت شمسو بی بی عرف عائشہ گلامنہ کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مقتولہ کے والد اور بھائی سمیت پانچ مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں کے ساتھ ساتھ انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ اس سلسلے میں 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا بھی جائزہ لیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شمسو بی بی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واردات کے بعد ملزمان نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے ایک فرضی کہانی بنانے کی کوشش کی، تاہم تفتیش کے دوران شواہد سے معاملہ واضح ہوگیا۔ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق مقتولہ کے والد نے مقدمہ درج کراتے ہوئے دو افراد کو نامزد کیا تھا، تاہم تحقیقات آگے بڑھنے کے بعد خود مدعی کا کردار بھی مشکوک پایا گیا اور اسے ملزم بنا کر گرفتار کرلیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والی مقتولہ کی بہن سے بھی تفتیش کی گئی، جس کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ قتل میں مقتولہ کے خاندان کے بعض افراد مبینہ طور پر ملوث ہیں۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور وہاں موجودگی کو خاندان کے کچھ افراد ناپسند کرتے تھے، جسے قتل کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ قتل کے مقدمے میں مدعی کا خود ملزم بن جانا غیر معمولی صورتحال ہے، تاہم شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے۔ گرفتار پانچوں افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ قتل کے محرکات اور واقعے سے متعلق دیگر حقائق سامنے آسکیں۔



















































