پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اسٹیل مصنوعات کی درآمد پر ٹیکسز اور ڈیوٹی بڑھانے کا مطالبہ

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) ملک میں تیار اسٹیل مصنوعات کی بے دریغ درآمدات کے نتیجے میں سال 2014-15 میں 12.6ارب روپے کے ٹیکسز اور ڈیوٹی جمع کرانے والی شپ بریکنگ انڈسٹری نے 2015-16 کی پہلی سہ ماہی میں صرف 40 کروڑ روپے کے ٹیکسز جمع کرائے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پورے سال میں ایف بی آر صرف شپ بریکنگ انڈسٹری سے 1ارب کے محاصل ہی جمع کر پائے گا جو گزشتہ سال سے 11.5ارب روپے کم ہوں گے۔
پاکستان شپ بریکرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر اور ہورائزون شپ ریسائیکلنگ کے مالک شعیب سلطان نے بتایاکہ ہم حکومت سے مستقل مطالبہ کررہے ہیں کہ ملک میں تیار اسٹیل مصنوعات کی درآمد پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا جائے اور مقامی انڈسٹری کو مساویانہ مسابقتی ماحول فراہم کیا جائے ورنہ شپ بریکنگ انڈسٹری جو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے مکمل طورپر بند ہوجائے گی۔
انہوں نے کہاکہ رواں سال حکومت 11.5ارب روپے کا نقصان صرف شپ بریکنگ انڈسٹری سے ٹیکسز نہ ملنے کی صورت میں اٹھائے گی، پاکستان اسٹیل ری رولنگ ملز ایسوسی ایشن نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تیار مصنوعات مثلاً اسٹیل بار، اینگل، چینل اور گارڈر بیم کی درآمد کو فوری طورپر روکاجائے ورنہ 30ارب روپے سالانہ ٹیکسز جمع کرانے والی انڈسٹری جس کی استعداد 6 ملین ٹن سالانہ ہے بند ہوجائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ درآمدی مصنوعات پر ڈیوٹی 30فیصد کی جائے اور سیلز ٹیکس بھی 17فیصد سے بڑھا کر 30فیصد کیا جائے، ایف بی آر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر تیار مصنوعات پر 22ہزار روپے فی ٹن تک اضافی محاصل حاصل کرسکتا ہے۔
پاکستان اسٹیل میلٹرز ایسوسی ایشن کے ممبر اور آغا اسٹیل کے ڈائریکٹر حسین آغا نے کہاکہ غیرمعیاری اسٹیل مصنوعات کی بے دریغ درآمد سے ملکی تعمیراتی سیکٹر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، زلزلوں کی زد میں رہنے والے ملک میں غیرمعیاری اسٹیل مصنوعات کی درآمدات اور ان کا استعمال مجرمانہ غفلت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملکی صنعتوں کو خطرے میں ڈال کر تیار غیرملکی مصنوعات کی درآمد کو فروغ دینا نہایت غیر ذمے درانہ عمل ہے، ہم حکومت سے اسٹیل مصنوعات کی درآمدات فوری روکنے اور ان پر ٹیکسز اور ڈیوٹی بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مزید پڑھئیے: ریحام نے طلاق کی وجہ کالا جادو قرار دے دیا

مزید پڑھئیے:ذولفقار مرزا کے ایان علی اور آصف زرداری کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…