جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

راولپنڈی،14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی اور سفاکانہ جنسی تشدد کرنے والا درندہ گرفتار

datetime 24  جولائی  2026 |

راولپنڈی (این این آئی)راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں ورک پلیس پر فیکٹری کے استاد نے 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی کی اور انسانیت سوز تشدد کیا۔

میڈیارپورٹ کے مطابق استاد مبینہ زیادتی کے دوران بچے سے بربریت کا مظاہرہ بھی کرتا رہا، بچے کی حالت خراب ہونے پر ہسپتال منتقل کیاگیا تو حقیقت سامنے آگی۔والد کی درخواست پر پولیس نے فیکری کے استاد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے بناننے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے۔بیٹے کے فیکٹری میں استاد اسد جہانگیر نے متعدد کالیں، دوسرے بیٹے نے جوابا فون کیا تو اسد جہانگیر نے بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو ہسپتال لے آئے ہیں ۔

اسد جہانگیر نے کہا ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں، ہسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ سہمے ہوئے بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔بیٹے نے بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا، پولیس نے کہا کہ مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔بعد ازاں ترجمان راولپنڈی پولیس نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہاکہ سول لائنز پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 14 سالہ لڑکے سے زیادتی کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا۔ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز خان نے کہا کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا، خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…