اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) لاہور ہائیکورٹ نے لاہور موٹروے اجتماعی زیادتی کیس میں سزا پانے والے دونوں ملزمان، عابد علی اور شفقت عرف بگا، کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس شہباز علی اور جسٹس طارق محمود پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ڈی این اے، فرانزک اور طبی شواہد نے ملزمان کے خلاف الزامات کو مؤثر انداز میں ثابت کیا، اس لیے سزائے موت میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ متاثرہ خاتون کا بیان مقدمے کا نہایت اہم حصہ تھا،
جس کی تائید سائنسی شواہد نے بھی کی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق گاڑی سے حاصل ہونے والے خون کے نمونوں کا ڈی این اے مجرم عابد علی سے مطابقت رکھتا تھا، جبکہ دیگر فرانزک شواہد بھی استغاثہ کے مؤقف کو مضبوط بناتے ہیں۔تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شناخت پریڈ کے دوران دونوں ملزمان کی درست شناخت ہوئی۔ شواہد سے ثابت ہوا کہ ملزمان نے خاتون اور اس کے بچوں کو زبردستی گاڑی سے باہر نکالا اور سنگین جرم کا ارتکاب کیا، جس سے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورا معاشرہ شدید خوف و ہراس کا شکار ہوا۔عدالت نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں جرم کی سنگینی کے پیش نظر ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں، لہٰذا ان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا گیا۔



















































