جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

فیصل آباد،قرض کے بدلے شوہر ہاتھوں فروخت ہونے والی تین بچوں کی ماں نادیہ کی کہانی نے دل دہلا دیئے

datetime 16  جولائی  2026 |

مکو آ نہ (این این آئی)فیصل آباد کے علاقے کوکیاں والا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے شوہر نے قرض کے تنازع کے بعد اسے اپنے ایک دوست کے حوالے کر دیا، جہاں اسے مبینہ طور پر جبری نکاح، تشدد اور دیگر سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

متاثرہ خاتون نادیہ، جو اس وقت مدن پورہ میں اپنی والدہ کے گھر مقیم ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی شادی تقریباً بارہ برس قبل عثمان نامی شخص سے ہوئی تھی اور ان کے تین بچے ہیں۔ ان کے مطابق شادی کے بعد خاندان کرائے کے مکان میں منتقل ہوا، جہاں شوہر نے اپنے ایک دوست شہزاد، جو پیشے کے اعتبار سے پراپرٹی ڈیلر ہے، سے قرض حاصل کیا۔خاتون کے مطابق قرض کی واپسی کے معاملے پر شوہر نے انہیں مبینہ طور پر اپنے دوست کے حوالے کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں شوہر دو بچوں کو ساتھ لے کر چلا گیا، جبکہ انہیں اور ان کے کم عمر بیٹے کو اسلحے کے زور پر ایک دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا اور اہل خانہ سے رابطہ بھی منقطع کر دیا گیا۔

متاثرہ خاتون نے مزید دعویٰ کیا کہ بعد میں ان کے نام پر مبینہ طور پر جعلی طلاق نامہ تیار کیا گیا، شناختی دستاویزات پر زبردستی دستخط اور انگوٹھے لگوائے گئے، اور بعد ازاں دھمکیاں دے کر ان سے جبری نکاح کرایا گیا۔ ان کے بقول اس دوران انہیں مسلسل ہراساں کیا گیا اور ایک سال تک مختلف نوعیت کے ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔نادیہ کا کہنا ہے کہ ان کے بھائیوں نے طویل تلاش کے بعد انہیں واپس گھر پہنچایا، تاہم ان کا ایک کم عمر بیٹا اب بھی مبینہ طور پر ملزم کے پاس ہے، جبکہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…