اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ریٹائرمنٹ کا مشورہ ملنے پر
اپنے مخصوص انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دوستوں کے مشوروں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اپنے ایک کالم میں سہیل وڑائچ نے لکھا کہ ایک قریبی اور خیر خواہ دوست نے ان کی عمر کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ریٹائر ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور اس پر غور کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔
انہوں نے لکھا کہ صحافت کوئی مستقل سرکاری ملازمت نہیں بلکہ ایک ایسا پیشہ ہے جس میں روزگار کا انحصار حالات اور قسمت پر ہوتا ہے۔ ان کے بقول جس رب نے زندگی بھر رزق عطا کیا ہے، وہ آئندہ بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرے گا۔
سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں اقتدار کی عارضی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں انہوں نے ایسے متعدد بااثر افراد دیکھے جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ انہیں بھی اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں اور وزارتیں بدلتی رہتی ہیں، جبکہ تحریر اور صحافت اپنا اثر برقرار رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے دوست کے لیے اقتدار سے زیادہ اصول اور اقدار اہم ہیں۔ اسی جذبے کے تحت وہ ان کی کامیابی، ترقی اور مزید ذمہ داریوں کے لیے دعاگو ہیں تاکہ وہ عوام کی خدمت کا عمل جاری رکھ سکیں۔
کالم کے آخر میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ اختلافِ رائے یا تنقید کے باوجود وہ اپنے دوستوں کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی دوست ان سے ناراض بھی ہو جائے یا ان کے مؤقف سے اختلاف کرے تب بھی وہ جواباً تلخی اختیار نہیں کریں گے، البتہ اپنی رائے اور مشورے تحریر کے ذریعے پیش کرتے رہیں گے۔



















































