جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

سہیل وڑائچ نے ریٹائرمنٹ کے مشورے پر محسن نقوی کو جواب دے دیا

datetime 17  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ریٹائرمنٹ کا مشورہ ملنے پر

اپنے مخصوص انداز میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دوستوں کے مشوروں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اپنے ایک کالم میں سہیل وڑائچ نے لکھا کہ ایک قریبی اور خیر خواہ دوست نے ان کی عمر کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ریٹائر ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور اس پر غور کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

انہوں نے لکھا کہ صحافت کوئی مستقل سرکاری ملازمت نہیں بلکہ ایک ایسا پیشہ ہے جس میں روزگار کا انحصار حالات اور قسمت پر ہوتا ہے۔ ان کے بقول جس رب نے زندگی بھر رزق عطا کیا ہے، وہ آئندہ بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرے گا۔

سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں اقتدار کی عارضی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں انہوں نے ایسے متعدد بااثر افراد دیکھے جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ انہیں بھی اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں اور وزارتیں بدلتی رہتی ہیں، جبکہ تحریر اور صحافت اپنا اثر برقرار رکھتی ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے دوست کے لیے اقتدار سے زیادہ اصول اور اقدار اہم ہیں۔ اسی جذبے کے تحت وہ ان کی کامیابی، ترقی اور مزید ذمہ داریوں کے لیے دعاگو ہیں تاکہ وہ عوام کی خدمت کا عمل جاری رکھ سکیں۔

کالم کے آخر میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ اختلافِ رائے یا تنقید کے باوجود وہ اپنے دوستوں کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی دوست ان سے ناراض بھی ہو جائے یا ان کے مؤقف سے اختلاف کرے تب بھی وہ جواباً تلخی اختیار نہیں کریں گے، البتہ اپنی رائے اور مشورے تحریر کے ذریعے پیش کرتے رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…