جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ٹوائلٹ پر لیگی ایم پی اے کے بیٹےکے ساتھ تنازع؛ ڈی پی او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

datetime 16  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں تعینات گریڈ 18 کے پولیس افسر کامران حامد کو ایک متنازع واقعے کے بعد

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ حکمران جماعت کے ایک مقامی رکنِ صوبائی اسمبلی اور ان کے خاندان سے پیش آنے والی تلخ کلامی کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد انکوائری کا آغاز کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کو ہدایت دی کہ دونوں فریقین کا مؤقف سنا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ تنازع کی اصل وجہ کیا تھی۔ بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں پولیس افسر کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم پی اے اپنے بیٹے اور چند شہریوں کے ہمراہ ڈی پی او آفس پہنچے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کے تحت اراکین اسمبلی مقامی مسائل کے حل کے لیے ضلعی پولیس حکام سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔

ملاقات کے دوران ایم پی اے کا بیٹا ایک فون کال سننے کے لیے دفتر کے اندر گیا اور بعد میں ڈی پی او کے ریٹائرنگ روم میں موجود واش روم استعمال کیا۔ اسی دوران ڈی پی او کامران حامد وہاں پہنچے اور انہوں نے بغیر اجازت واش روم استعمال کرنے پر اعتراض اٹھایا۔

ذرائع کے مطابق جواباً نوجوان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک سرکاری دفتر ہے اور اس میں موجود سہولیات عوامی استعمال کے لیے ہیں۔ اس بات پر دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور ماحول کشیدہ ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب پولیس افسر نے غصے میں نوجوان کو دفتر سے نکل جانے کو کہا۔

بعد ازاں ایم پی اے نے مداخلت کرتے ہوئے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور اپنے بیٹے کو وہاں سے روانہ ہونے کا مشورہ دیا، تاہم دفتر سے باہر آنے کے بعد اس واقعے پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہوگئی اور سوشل میڈیا پر بھی معاملہ موضوعِ گفتگو بن گیا۔

ذرائع کے مطابق بعد میں یہ مسئلہ مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما سائرہ افضل تارڑ تک پہنچا، جس کے بعد اسے اعلیٰ حکومتی سطح پر اٹھایا گیا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی پولیس افسر کے رویے کے خلاف مہم چلائی گئی۔

رپورٹس کے مطابق ایم پی اے نے اپنے بیٹے کے ہمراہ آئی جی پنجاب سے ملاقات کر کے ڈی پی او کے طرزِ عمل پر اعتراضات پیش کیے۔ جواب میں کامران حامد نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنے ریٹائرنگ روم اور وہاں موجود ذاتی سامان کے باعث اعتراض کیا تھا، تاہم یہ وضاحت حکام کو مطمئن نہ کر سکی۔

تحقیقاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد حکومت نے کامران حامد کو حافظ آباد سے ہٹا کر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں تعینات کر دیا، جبکہ ان کی جگہ نئے افسر کی تعیناتی کا عمل شروع کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…