اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)وفاقی دارالحکومت میں جہاں ایک جانب غیر قانونی تعمیرات اور ہاؤسنگ منصوبوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں،
وہیں دوسری طرف غیر منظور شدہ رہائشی اسکیموں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ایگرو فارمنگ منصوبوں کی نئی فہرست جاری کر دی ہے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں کم قیمت پلاٹس، جدید رہائشی سہولیات اور زیادہ منافع کے دعوؤں کے ساتھ متعدد ہاؤسنگ اسکیمیں سامنے آئیں، جنہوں نے سرمایہ کاری کے خواہشمند شہریوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ تاہم، ان میں سے کئی منصوبے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کے باعث شہریوں کے لیے مشکلات کا سبب بن گئے۔سی ڈی اے نے مجموعی طور پر 98 ہاؤسنگ اور ایگرو فارمنگ سکیموں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان منصوبوں کے پاس مطلوبہ این او سی یا دیگر قانونی منظوری موجود نہیں۔ اس کے باوجود بعض سوسائٹیاں اب بھی سستے پلاٹس اور پرکشش آفرز کے ذریعے عوام کو سرمایہ کاری پر آمادہ کر رہی ہیں۔غیر قانونی قرار دی گئی سکیمیں اسلام آباد کے مختلف علاقوں، جن میں کُڑی روڈ، لہتراڑ روڈ، سملی ڈیم روڈ، پارک روڈ، بنی گالہ اور اسلام آباد ہائی وے شامل ہیں، میں قائم ہیں۔
فہرست میں عبداللہ گارڈنز، غوری ٹاؤن کے مختلف فیز، گرین ویلی، فیصل ٹاؤن سمیت کئی معروف منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں، جس سے پہلے سے سرمایہ کاری کرنے والے افراد میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں کسی بھی ہاؤسنگ منصوبے کی منظوری اور نگرانی کا اختیار صرف اتھارٹی کے پاس ہے، اور ہر سکیم کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ منظوری کے مراحل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق لے آؤٹ پلان اور این او سی کے بغیر کسی قسم کی پلاٹ فروخت یا تعمیراتی سرگرمی قانونی نہیں سمجھی جائے گی۔اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ سکیم میں سرمایہ کاری سے قبل اس کی قانونی حیثیت لازمی طور پر سی ڈی اے کے ریکارڈ سے چیک کریں۔ ساتھ ہی عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ غیر معمولی رعایتوں اور فوری منافع کے دعوؤں والی اسکیموں سے محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔



















































