اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کے موجودہ نظام میں اہم تبدیلیاں کی جائیں گی۔
حکومت آئندہ آٹھ ماہ کے دوران ایک نیا طریقہ کار متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے تحت 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے تمام صارفین کو ملنے والی عمومی رعایت ختم کر دی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق جنوری 2027 سے ہدفی سبسڈی کا نظام نافذ کیا جائے گا، جس میں صرف مستحق خاندانوں کو رعایت فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا سے مدد لی جائے گی تاکہ سبسڈی صحیح افراد تک پہنچ سکے اور اس کے غلط استعمال کی روک تھام ممکن ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) کے ساتھ بجلی صارفین کا ریکارڈ منسلک کرنے پر کام کر رہی ہے، جبکہ اس منصوبے میں عالمی بینک بھی معاونت فراہم کرے گا۔
سبسڈی کی ادائیگی کے لیے ایک بیرونی کمپنی کے ذریعے مؤثر نظام ترتیب دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔حکام کے مطابق موجودہ نظام میں بعض صارفین ایک سے زائد بجلی میٹر لگا کر ہر میٹر کی کھپت 200 یونٹس سے کم رکھتے ہیں تاکہ زیادہ سبسڈی حاصل کی جا سکے۔ نئے نظام کے تحت اس طرح کے طریقوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور سبسڈی صرف حقیقی حق داروں تک محدود رکھی جائے گی۔



















































