جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سر میں گولی لگنے سے رکن قومی اسمبلی کی نوجوان بیٹی جاں بحق

datetime 20  اپریل‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے رکن قومی اسمبلی کی نوجوان بیٹی جاں بحق ہوگئی۔

مقتولہ میڈیکل کی طالبہ تھی۔تفصیلات کے مطابق اچی کے علاقے گلشن اقبال میں ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے کے نتیجے میں رکنِ قومی اسمبلی اقبال محسود کی 18 سالہ بیٹی ماہ نور جاں بحق ہو گئی۔پولیس حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ ہفتے کی شب گلشن اقبال بلاک 7 میں پیش آیا، گھر کے اندر موجود ماہ نور کے سر میں اچانک نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں، انہیں فوری طور پر قریبی نجی اسپتال (پٹیل اسپتال)منتقل کیا گیا، جہاں وہ اتوار کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔مقتولہ ماہ نور میڈیکل کی طالبہ تھیں اور ان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)سے وابستہ رکنِ قومی اسمبلی کے خاندان سے ہے۔پولیس کی ابتدائی تفتیش کے دوران اہلِ خانہ نے واقعے کو اندھی گولی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کروانے سے معذرت کر لی ہے۔

اہلِ خانہ کے انکار کے باوجود پولیس نے واقعے کی حساسیت کے پیش نظر مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ گولی چلنے کی اصل سمت اور وجہ کا تعین کیا جا سکے۔ماہ نور کی نمازِ جنازہ گلشن اقبال بلاک 7 کی جامعہ مدینہ اسلامیہ میں ادا کی گئی، جس میں عزیز و اقارب، سیاسی و سماجی شخصیات اور اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔کراچی میں ہوائی فائرنگ اور نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…